خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 662 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 662

خطبات مسرور جلد 12 662 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء پسندیدہ مال میں سے خرچ کرتے ہیں بلکہ بعض ایسے ہیں کہ اگر کبھی مال خرچ کرنے کی یہ توفیق کسی وجہ سے کم ہو جائے تو بے چین ہو جاتے ہیں ، روتے ہیں۔پس یہ دلوں کی حالت اور مالی قربانی کی روح بلکہ بعض دفعہ جان کی قربانی کی روح بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے اور اب اسلام کی ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمائی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ ہی مومنین کے دلوں میں مالی جہاد کے لئے مالی قربانی کی روح بھی پیدا فرماتا ہے اور اسی طرح باقی دوسری قسم کی قربانیاں بھی ہیں۔اس وقت میں چند واقعات بیان کروں گا کہ اس زمانے میں بھی کس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں قربانی کی روح پیدا کرنے کی تحریک پیدا کرتا ہے اور یہ نہیں کہ یہ کسی خاص طبقے یا خاص ملک میں یا خاص لوگوں میں ہے بلکہ دنیا کے ہر خطے میں ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتا ہے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ اس کی تحریک پیدا کرتا ہے چاہے وہ افریقہ کے دور دراز ممالک ہوں یا یورپ میں رہنے والے لوگ ہوں یا جزائر میں رہنے والے ہوں۔امیر صاحب برکینا فاسو نے یہ لکھا کہ فادا شہر کے صدر صاحب جماعت کہتے ہیں کہ اس سال جب عید الاضحی آئی تو میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ گھر کھانا بھی پک سکتا۔اس لئے قربانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا یعنی عید پر بکرے کی جو قربانی کی جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ ان دنوں تحریک جدید کے بارے میں مربی صاحب بھی درس دیتے تھے۔مالی قربانی کے بارے میں بھی اور تحریک جدید کے بارے میں انہوں نے توجہ دلائی۔چنانچہ کہتے ہیں میں نے برکت کے لئے دو ہزار فرانک اس میں دے دیا اور خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ میری ضروریات پوری کر دے گا۔بہر حال ایسا معجزہ ہوا کہ اگلے دن ہی ان کے چھوٹے بھائی نے ان کو آئیوری کوسٹ سے غیر معمولی طور پر بڑی رقم بھجوائی جس کی انہیں کوئی امید نہیں تھی جس سے عید کی قربانی کا بھی انتظام ہو گیا اور اُن کے گھر کے اخراجات کے لئے جو ضرورت تھی وہ بھی پوری ہوگئی۔وہ کہتے ہیں چند گھنٹے میں یہ دیکھ کر میرے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔پھر برکینافاسو کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ یڈ گو کی جگہ کے ایک خادم تر او لے آدم صاحب نے کپاس کا پیچ خریدا ( وہاں کپاس کی فصل کاشت کی جاتی ہے ) کہ اس کو بیچ کر گزارہ کروں گا۔لیکن ایسا ہوا کہ کوئی گا ہک نہیں ملا۔ان کو بڑی تشویش ہوئی کہ اگر بیچ فروخت نہ ہوا تو گھر کا نظام کیسے چلے گا۔بہر حال ایک دن