خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 656
خطبات مسرور جلد 12 656 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء لئے جو کام وہ کر رہے ہیں ہم بھی ان کے ساتھ اس میں شامل ہو جا ئیں۔ہمیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ میں یہ نظر آتا ہے کہ نبوت کا مقام ملنے کے بعد بھی آپ نے فرمایا کہ اگر آج بھی مجھے غیروں کی طرف سے ضرورتمندوں کی مدد کے لئے بلایا جائے تو میں شامل ہو جاؤں۔(السيرة سيرة النبوية لابن هشام باب حلف الفضول صفحه نمبر 91 دار الكتاب العربی بیروت 2008ء) آپ کا اشارہ حلف الفضول جو معاہدہ تھا اس کی طرف تھا جس میں نبوت سے بہت پہلے مکہ کے بعض لوگوں نے اکٹھے ہو کر غریبوں کی مدد کے لئے اور ضروریات پوری کرنے کے لئے تنظیم بنائی تھی جس میں آپ بھی شامل تھے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہمیں اپنی خیر کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا چاہئے نہ کہ محدود۔ہم نہ تو دنیا سے ان کی جو مادی مدد ہم کرتے ہیں اس کے لئے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ روحانی خیر بانٹ کر کوئی بدلہ چاہتے ہیں۔اگر کوئی درد اور تڑپ ہے تو صرف یہ کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچان لے۔اور یہ خیر بانٹ کر اور خیر چاہ کر انبیاء ہمیشہ یہی جواب دیتے رہے ہیں جو ہمیشہ انبیاء کا اور ان کی جماعتوں کا شیوہ ہے اور یہی ہمیں سکھایا گیا ہے کہ میرا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔پس یہی جواب انبیاء کی جماعت کا ہونا چاہئے اور ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ انبیاء جب خیر بانٹ کر پھر یہ کہتے ہیں کہ میرا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے تو پھر بھی ایک بہت بڑی تعداد نبی کی دشمنی میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس ہمیں بھی یہ سوچ لینا چاہئے کہ اس خیر کا بدلہ ہمیں ہمارے جو بدفطرت مخالفین ہیں ان کی طرف سے نقصان اور دشمنی کی صورت میں مل سکتا ہے اور ملتا بھی ہے۔بلکہ بعض لوگ تو ہمیں اس طرح دیکھتے ہیں جیسے شیر بکری کو دیکھتا ہے کہ کس طرح شکار میرے قابو آ یا۔ہمارا تو اس شخص جیسا حال ہے جس نے کوئی شیر یا چیتا پالا ہو اور وہ کسی طرح چھوٹ جائے تو مالک کی یہ کوشش ہوگی کہ اسے اس طرح قابو کرے کہ اس جانور کو کوئی نقصان نہ ہو اور پھر بھی وہ اس کے کسی کام آ سکے لیکن چیتے کی کوشش یہی ہوگی کہ مالک کو چیر پھاڑ ڈالے۔پس پاکستان اور بعض ملکوں میں ایسے لوگ ہیں بلکہ تمام مولوی اور ان کے زیر اثر ایسے لوگ ہیں جو ہماری طرف جھوٹ منسوب کر کے ہمیں چیر نا پھاڑ نا چاہتے ہیں لیکن ہماری یہ کوشش ہے کہ یہ کسی طرح بچ جائیں اور خدا تعالیٰ کی گرفت میں نہ آئیں۔ان لوگوں کی مخالفتیں ہمارے ساتھ کسی ذاتی وجہ سے نہیں