خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 655 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 655

خطبات مسرور جلد 12 655 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اکتوبر 2014ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اس بات پر ہونا چاہئے کہ لوگ تباہ ہونے سے بچ جائیں تا کہ ہمارے بھائی بن جائیں۔اس کے لئے ہمیں درد دل سے دعائیں کرنے کی بھی ضرورت ہے اور کوشش کی بھی ضرورت ہے۔ہم نے دنیا کو صحیح روحانی راستوں کی رہنمائی کر کے ان کی دنیا و عاقبت سنوارنی ہے۔یہ بھی بتادوں کہ روحانی رہنمائی کر کے ہم نے دنیا کو صحیح راستوں پر تو چلانا ہی ہے ، مادی مدد اور خیر بھی ہمارے ذمہ لگائی ہوئی ہے اور قرآن کریم میں اس کے بارے میں بھی احکامات ہیں۔صرف اپنوں کے لئے خیر کے انتظامات نہیں کرنے ، صرف اپنوں کے بھوک ننگ اور بیماریوں کو ختم کرنے کے لئے کوشش نہیں کرنی بلکہ غیروں اور ہر ضرورتمند کے لئے ہماری کوشش ہونی چاہئے۔اس وقت مضمون تو گوروحانی خیر کا ہی زیادہ ہے لیکن ایک بات میرے علم میں آئی ہے اس لئے یہاں اس کا بھی بیان کر دیتا ہوں۔گزشتہ دنوں ہمارے ایک احمدی یہاں سے ترکی اور لبنان وغیرہ میں گئے جو وہاں ہمسایہ عرب ممالک سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لئے گئے تھے۔کیونکہ وہاں ان لوگوں کی بھی کافی بری حالت ہے۔خوراک کی بھی کمی ہے اور دوسری چیزوں کی بھی، ان کے لئے کپڑے وغیرہ کی بھی ضرورت ہے۔اسی طرح بچوں کی تعلیم وغیرہ متاثر ہورہی ہے۔تو بہر حال مختلف چیریٹی آرگنائزیشن ہیں جو اُن کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن کمی وہاں بہت زیادہ ہے۔وہاں کسی احمدی نے یہ اعتراض بھی کیا کہ جماعت احمد یہ یورپ والوں کی مدد کیوں کرتی ہے صرف ہماری مدد کرنی چاہئے۔غالباً اس شخص کا اشارہ یورپ میں ہم چیر بیٹیز کو جو رقم دیتے ہیں اس کی طرف تھا۔تو یہاں بھی اس قرآنی حکم کے مطابق یہی جواب ہے کہ روحانی اور مادی مدد بلا امتیاز ہم نے ہر ایک کی کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بھو کے کو کھانا کھلاؤ تو یہ نہیں فرمایا کہ احمدی بھوکے کو یا مسلمان بھوکے کوکھانا کھلاؤ بلکہ ہر بھوکے کو کھانا کھلاؤ۔مسکین کی اور ضرورتمند کی ضرورت پوری کرو۔تو یہ بھی ہمارا فرض ہے کہ ہر مسکین اور ہر ضرورتمند کی ضرورت پوری کریں۔یہ تمام فرائض ہم نے ادا کرنے ہیں اور ایک مومن کو اس قسم کی باتیں زیب نہیں دیتیں کہ وہ اعتراض کرے کہ فلاں کو کیوں دیا اور فلاں کو نہیں دیا۔بلکہ مومن کے فرائض میں داخل ہے کہ بلا امتیاز ہر ایک کی خدمت کرے۔دوسرے ہم یہاں جو چیریٹی واک وغیرہ کرتے ہیں اس میں غیر بھی کافی بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہیں۔اور یہی رقمیں جو چیریٹیز کو دی جاتی ہیں وہ لوگ بھی جب آتے ہیں تو ہماری چیریٹیز میں حصہ ڈالتے ہیں۔اس لحاظ سے یہاں کی مقامی چیریٹیز کا بھی حق بنتا ہے کہ خدمت انسانیت کے