خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 644
خطبات مسرور جلد 12 644 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء متبرک جگہ ہے۔اس باغ کے رستے میں وہ جگہ تھی جہاں محلہ دار الضعفاء بنا تھا۔اس محلے کے بننے سے پہلے یرزمین علی شیر صاحب کے پاس تھی (یعنی یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی بیوی کے بھائی تھے ) اور وہ اس میں شوق سے باغیچہ لگایا کرتے تھے۔ایک لمبی سی سیخ انہوں نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوتی تھی۔داڑھی بھی بڑی لمبی تھی مگر سلسلے کے سخت دشمن تھے اور ہمیشہ اس تاڑ میں رہتے تھے کہ کوئی احمدی ملے تو اسے ور غلاؤں۔ایک دفعہ یہ پانچوں بھائی قادیان آئے (جیسا کہ ذکر ہوا ہے ) اور باغ دیکھنے کیلئے چل پڑے۔ان میں سے ایک بھائی تیز تیز قدم اٹھائے ہوئے سب سے آگے جارہا تھا۔مرزا علی شیر نے انہیں دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ باہر کے آدمی ہیں اور انہوں نے زور سے آواز دی کہ بھائی صاحب ذرا بات سننا۔اس آواز پر وہ آگئے۔مرز اعلی شیر نے ان سے کہا کہ آپ یہاں کس طرح آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا تھا کہ مرزا صاحب نے مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہے اس لئے یہاں ہم ان کی زیارت کیلئے آئے ہیں کیونکہ ہمیں وہ اپنے دعوے میں سچے معلوم ہوتے ہیں۔وہ کہنے لگا کہ تم اس کے دھو کے میں کس طرح آگئے۔تم نہیں جانتے یہ تو اس شخص نے اپنی روزی کمانے کیلئے ایک دکان کھول رکھی ہے۔یہ میرا بھائی ہے اور میں اس کے حالات کو خوب جانتا ہوں۔تم تو باہر کے رہنے والے ہو۔تمہیں اصل حالات کا کیا علم ہو سکتا ہے۔تم اس کے دھوکے میں نہ آنا ور نہ نقصان اُٹھاؤ گے۔وہ احمدی دوست مرزا علی شیر کی یہ بات سن کر بڑے شوق سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ذرا دست پنجہ تو لیں۔( یعنی مصافحہ کریں۔اپنا ہاتھ پکڑا ئیں۔) تو علی شیر نے سمجھا کہ میری باتوں کا اس پر اثر ہو گیا ہے اور میری بزرگی کا یہ قائل ہو گیا ہے کیونکہ ان کی یہ عادت تھی کہ وہ باتیں بھی کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ اور استغفر اللہ بھی کہتے جاتے تھے۔تو علی شیر نے بڑے شوق سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سمجھا کہ آج ایک اچھا شکار میرے قابو آ گیا ہے۔تو بھائیوں میں سے یہ جو ایک احمدی بھائی آگے تھے ، انہوں نے زور سے ان کا ہاتھ پکڑا اور باقی چاروں بھائیوں کو زور زور سے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ جلدی آنا ایک ضروری کام ہے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ہمارے ماموں نے سمجھا کہ اس پر میری بات کا اثر ہو گیا ہے اور اب یہ اپنے بھائیوں کو اس لئے بلا رہا ہے کہ انہیں بتائے کہ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے اور وہ اپنے دل میں بڑے خوش ہوئے کہ آج میرا حربہ کارگر ہوا ہے۔مگر جب ان کے بھائی وہاں پہنچ گئے۔پانچوں بھائی اکٹھے ہو گئے تو جو پہلے بھائی آئے ہوئے تھے کہنے لگے ہم قرآن اور حدیث میں پڑھا کرتے تھے کہ دنیا میں ایک شیطان ہو ا کرتا ہے مگر وہ ہمیں ملتا نہیں