خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 643
خطبات مسرور جلد 12 643 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء بھائی ) جن کا نام علی شیر تھا۔( یہ پہلی بیوی کے بھائی تھے۔) چونکہ خدائی منشاء اور اس کے احکام کے ماتحت آپ نے حضرت ام المومنین سے شادی کر لی تھی۔اس لئے آپ کی پہلی بیوی کے رشتہ دار آپ سے مخالفت رکھنے لگ گئے تھے۔حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی بیوی ایک بہت ہی نیک عورت تھیں۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ ہم سے اتنی محبت کرتی تھیں کہ کہنے کو لوگ کہتے ہیں کہ ”ماں سے زیادہ چاہے پیچھے کٹنی کہلائے مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم بچپن میں یہی سمجھتے تھے کہ وہ ہم سے ماں سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں۔(اس لئے لوگوں کی یہ جو غلط فہمیاں ہیں ناں کہ پہلی بیوی سے تعلق نہیں تھا وہ بھی غلط ہے۔لکھتے ہیں کہ ہماری بڑی بہن عصمت جب فوت ہوئیں تو ان دنوں چونکہ محمدی بیگم کی پیشگوئی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ داروں نے ایک مخالفانہ اشتہار شائع کیا تھا اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان کے گھر کا جو دروازہ تھا وہ حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام نے بند کروادیا تھا۔حضرت ام المومنین نے سنایا کہ جب عصمت بیمار ہوئی تو اس کی حالت نازک ہو گئی تو جس طرح ذبیح ہوتے وقت مرغی تڑپتی ہے۔وہ تڑپتی تھی۔(یعنی بچی تڑپتی تھی ، بچی بے چین ہوتی تھی ) اور بار بار کہتی تھی کہ میری اماں کو بلا دو۔( یعنی بڑی والدہ کو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں بلوایا۔جب وہ آئیں اور انہوں نے عصمت کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا تو اسے آرام اور سکون حاصل ہوا۔اور تب اس کی جان نکلی۔غرض وہ بہت ہی نیک عورت تھیں اور ان کو اپنی سوکن کے بچوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی وہ بڑی محبت رکھتی تھیں اور آپ کی بڑی قدر کرتی تھیں اور آپ کے متعلق کسی سے بھی کوئی بری بات نہیں سن سکتی تھیں۔مگر ان کے بھائی بڑے متعصب تھے اور وہ آنے والے احمدیوں کو ورغلاتے رہتے تھے اور کہتے تھے کہ میں تو اسکا بھائی رشتہ دار ہوں۔میں جانتا ہوں کہ اس نے صرف ایک دکان کھول رکھی ہے اور کچھ نہیں ہے۔( یعنی حضرت مسیح موعود وعلیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کہ صرف دکان کھولی ہے اور کچھ نہیں ہے نبوت کا ڈھکونسلا ہے۔یہ باتیں سن کے ) کمزور لوگوں کو دھو کہ لگ جاتا کہ بھائی جب یہ باتیں کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی ہونگی۔ایک دفعہ تحصیل کھاریاں کے یہی پانچوں بھائی جن کا پہلے شروع میں ذکر ہوا ہے، قادیان آئے۔اس وقت تک ابھی بہشتی مقبرہ نہیں بنا تھا۔یہ اس سے پہلے کی بات ہے۔اس زمانے میں جو لوگ قادیان آیا کرتے تھے انہوں نے متبرک مقامات کی زیارت کیلئے یا تو مسجد مبارک میں چلے جانا ، حضرت خلیفہ اسی الاول کی مجلس میں چلے جانا یا پھر ہمارے دادا کے باغ میں چلے جانا وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کا باغ ہے اس لئے یہ بھی