خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 639 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 639

خطبات مسرور جلد 12 639 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء حضرت خلیفہ اول نے خلیفہ ثانی کو فرمایا کہ تمہارے سامنے حضرت مسیح موعوعلیہ السلام کی تصنیف براہین احمدیہ موجود تھی۔آپ نے جب یہ تصنیف کی تو اس وقت آپ کے سامنے کوئی اسلامی لٹریچر موجود نہ تھا مگر تمہارے سامنے یہ موجود تھی اور امید تھی کہ تم اس سے بڑھ کر کوئی چیز لاؤ گے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ مامورین سے بڑھ کر علم تو کوئی کیا لا سکتا ہے سوائے اس کے کہ ان کے پوشیدہ خزانوں کو نکال نکال کر پیش کرتے رہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ بعد میں آنے والی نسلوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ گزشتہ بنیاد کو اونچا کرتے رہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے آئندہ نسلیں اگر ذہنوں میں رکھیں تو خود بھی برکات اور فضل حاصل کر سکتی ہیں۔اور قوم کیلئے بھی برکات اور فضلوں کا موجب ہو سکتی ہیں مگر اپنے آباء سے آگے بڑھنے کی کوشش نیک باتوں میں ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ چور کا بچہ ہو تو وہ چوری شروع کر دے۔نمازی آدمی کی اولاد کوشش کرے کہ باپ سے بڑھ کر نمازی بنے۔“ (ماخوذ از روزنامه الفضل قادیان مؤرخہ 26 فروری 1931 ءجلد 18 نمبر 99صفحہ 9) قرآن کریم کی عظمت کے بارے میں ایک جگہ بیان کرتے ہیں کہ ” مجھے بھی اپنے بچپن کی ایک جہالت یاد ہے۔جب میں چھوٹا بچہ تھا تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجالس میں بعض دشمن آتے اور آپ پر اعتراض کرتے تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت سادگی سے بات کرتے تھے۔بعض دفعہ مجھے یہ وہم ہوتا تھا شائد آپ اس شخص کی چالا کی کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔مگر جب دشمن مخالفت میں بڑھتا جاتا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی آسمانی طاقت نے آپ پر قبضہ کر لیا ہے اور آپ اس شان سے جواب دیتے تھے کہ مجلس پر سناٹا چھا جاتا تھا۔ایسی ہی بیوقوفی ان لوگوں کی ہے جو اس وقت کہ جب کوئی شخص قرآن شریف پر اعتراض کرے تو کہتے ہیں چپ ہو جاؤ ورنہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا۔(عام طور پر غیروں سے مولویوں سے بات کریں تو یہی کہتے ہیں کہ باتوں کی سمجھ نہیں آتی۔نئی بیعتیں کرنے والے کئی لوگ ہیں جو یہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ مجھ نہیں آیا تو مولوی کہتے ہیں کہ تمہیں سمجھ نہیں آ سکتا اس لئے چپ کر جاؤ۔نہیں تو ایمان ضائع ہو جائے گا۔حالانکہ یہ فضول بات ہے۔چاہئے تو یہ کہ قرآن شریف پر جو اعتراض ہوں ان کے جوابات ایسے دیے جاویں کہ دشمن بھی ان کی صداقت کو مان جائے۔نہ یہ کہ اعتراض کرنے والے کو اعتراض کرنے سے منع کر دیا جائے اور شکوک کو اس کے دل میں ہی رہنے دیا جائے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی ایک بات خوب یاد ہے۔میں نے کئی دفعہ اپنے کانوں سے وہ بات