خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 638 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 638

خطبات مسرور جلد 12 638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اکتوبر 2014ء اصل چیز سامنے ہوتی ہے۔پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔الف اور باء وغیرہ احتیاط سے ڈالے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے۔مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا مگر اس کا خط تو میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے ہی میری تائید میں ادھار کھائے بیٹھے تھے۔فرمانے لگے حضور! میر صاحب کو یونہی جوش آ گیا ہے ورنہ خط تو اچھا بھلا ہے۔لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول نے پھر مجھے کہا کہ میاں مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔دراصل میں نے آپ کو بتادیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی میں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنی شروع کر دی تھی گونانے ہوتے رہے۔اسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔(ماخوذ از الموعود، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 565 تا 569) پھر جب آپ نے تشخیز الاذہان رسالہ جاری فرمایا تو اس کے بارے میں حضرت خلیفہ اول کا کیا کیا سلوک تھا۔کیا دیکھنا چاہتے تھے۔اس بارے میں لکھتے ہیں کہ عرصہ ہوا کہ جبکہ پہلے پہل میں نے چند ایک دوستوں کے ساتھ مل کر رسالہ تشخیز الاذہان جاری کیا تھا اس رسالے کو روشناس کرانے کیلئے جو مضمون میں نے لکھا جس میں اس کے اغراض و مقاصد بیان کئے گئے تھے وہ جب شائع ہوا تو حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور اس کی خاص تائید کی اور عرض کیا کہ یہ مضمون اس قابل ہے کہ حضورا اسے ضرور پڑھیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد مبارک میں وہ رسالہ منگوایا اور غالبا مولوی محمد علی صاحب سے وہ مضمون پڑھوا کر سنا اور تعریف کی۔لیکن اس کے بعد جب میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو آپ نے فرمایا میاں تمہارا مضمون بہت اچھا تھا مگر میرا دل خوش نہیں ہوا۔اور فرمایا کہ ہمارے وطن میں ایک مثل مشہور ہے کہ اونٹ چالی اور ٹو ڈا بتائی۔اور تم نے یہ مثل پوری نہیں کی۔میں تو اتنی پنجابی نہیں جانتا تھا کہ مطلب سمجھ سکتا۔اس لئے میرے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھ کر آپ نے فرما یا شاید تم نے اس کا مطلب نہیں سمجھا یہ ہمارے علاقے کی ایک مثال ہے۔کوئی شخص اونٹ بیچ رہا تھا اور ساتھ اونٹ کا بچہ بھی تھا جسے اس علاقے میں ٹوڈا کہتے ہیں۔کسی نے اس سے قیمت پوچھی تو اس نے کہا کہ اونٹ کی قیمت تو چالیس روپے ہے مگر ٹو ڈے کی بیالیس روپے۔اس نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے۔تو اس نے کہا کہ ٹو ڈا اونٹ بھی ہے اور بچہ بھی پھر