خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد 12 628 خطبه جمعه فرموده مورخہ 17 اکتوبر 2014ء مقدم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتیں اور استعداد میں بروئے کار لائیں۔انصار اللہ کا اجتماع بھی آج سے ہو رہا ہے شوریٰ بھی ہو رہی ہے۔ان کو بھی اپنی شوری میں غور کرنا چاہئے بھی اور ان دنوں میں اپنے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ کس حد تک ہم اپنے معیار دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے بڑھا سکتے ہیں۔اور بڑھانے چاہئیں۔بلکہ حاصل کرنے چاہئیں انصار اللہ کی عمر تو ایسی ہے جس میں ان کو نمونہ بننا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کو ہماری کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔یہ تو اس کا احسان ہے، اس کی عطا ہے کہ ہمیں یہ کہہ کر کہ تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو تو میری رضا حاصل کرو گے ہمیں نوازا ہے ورنہ مال کی میں نے مثالیں دی ہیں اس کی خدا تعالیٰ کو ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارا یا کسی کا بھی محتاج نہیں ہے۔یہ تمام وسائل ، ذخائر ، سونا چاندی، زمینیں اس نے پیدا کی ہیں۔اگر وہ چاہتا تو دین کا کام کرنے والوں کو یہ سب کچھ بانٹ دیتا خود مہیا کر سکتا تھا لیکن ہمیں وہ ہمارے مقاصد سے آگاہ فرما کر پھر اس کے حصول کے لئے قربانی کی طرف توجہ دلاتا ہے تا کہ ہم اس کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں۔صرف مال ہی نہیں اس نے ہمیں اولا د بھی دی ہے۔اللہ تعالیٰ اولاد کی تربیت کے اور طریقے بھی ایجاد فرما سکتا تھا لیکن اس نے ماں باپ کو کہا کہ ان بچوں کی تربیت کرو۔ان پر اپنی حیثیت کے مطابق اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے خرچ کرو تا کہ یہ دین کے کام آسکیں۔پس ایک احمدی ماں باپ کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ دین کے کام آ سکیں اور تبھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی بات پوری ہوتی ہے، عہد پورا ہوتا ہے۔ان بچوں کی ایسی تربیت کرو کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ادراک انہیں بچپن سے حاصل ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ یہ چیزیں ہمارے سپرد کر کے ہماری آزمائش بھی کرتا ہے اور ہمیں نو از تا بھی ہے۔یہاں میں ہر سطح کے عہدیداروں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو نبھانے کی ذمہ داری دوسروں سے بڑھ کر ان کو اپنی بجھنی چاہئے۔ایک مقصد کے حصول کے لئے ان کی ذمہ داری لگائی گئی ہے جس کے لئے انہیں اپنی قربانی کے معیار کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح ہر سطح کا عہد یدار چھوٹی سے چھوٹی سطح سے لے کر، محلے سے لے کر مرکزی سطح تک اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ کر کے اپنے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور کرنی چاہئے۔یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر دلوں پر ہے اور اللہ تعالیٰ تڑپ کے ساتھ کام کرنے والوں کے اخلاص کو برکت بخشتا ہے اور انہیں قرب میں جگہ دیتا ہے اور ایک عہدیدار کو اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے اپنی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہر سطح کے عہد یدار کو بھی اور ہر احمدی کو بھی، مجھے بھی ، آپ کو بھی سب کو تو فیق عطا فرمائے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم