خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 623
خطبات مسرور جلد 12 623 خطبه جمعه فرموده مورخہ 17 اکتوبر 2014ء سے غافل نہ کریں۔اگر ہمارے لڑکے اور لڑکیاں اس بات کا خیال رکھیں بلکہ ان کے ماں باپ بھی تو دین مقدم کرنے سے گھروں کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور وہ مقصد بھی حاصل ہو جائے گا جو ایک مومن کا مقصد ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اسی طرح لباس ہے۔یہ ہر گز منع نہیں کہ عمدہ لباس نہ پہنو لیکن اس سے ضرور روکا گیا ہے کہ ہر وقت اتنے فیشن میں ڈوبے نہ رہو کہ دینی کام سے غافل ہو جاؤ۔ہر جگہ تمہیں یہ احساس رہے کہ فلاں جگہ میں جاؤں گا تو میرا لباس گندہ ہو جائے گا۔گویا کسی وقت بھی دینی کام سے انسان غافل نہ ہو۔اسی طرح نمازوں کی طرف توجہ کے بجائے اچھا لباس پہنا ہوا ہے، استری کیا ہوا لباس پہنا ہوا ہے، تو صرف اپنے کپڑوں کی شکنوں کی طرف نظر نہ رہے۔پس اسلام یہ کہتا ہے کہ کبھی بھی تم دینی کام سے غافل نہ ہو تبھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا حق ادا کر سکتے ہو۔اسی طرح اعلیٰ کھانے ہیں ان سے دین نہیں روکتا لیکن ان کا دین کے راستے میں حائل ہو جانا نا جائز ہے۔پس ہمیں ہمیشہ اپنے کاموں میں ان باتوں کو سامنے رکھنا چاہئے کہ جو چیزیں دین کے معاملے میں روک ہوں انہیں دُور کیا جائے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔بالکل دنیا میں پڑ جاتے ہیں۔فرمایا ” میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔نہیں۔صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔کوئی امران کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔فرمایا کہ ” جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہو جاتے ہیں گویا دنیا کے پرستار ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ اور قابو پالیتا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے۔“ وو ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 193-194 ) اور جیسا کہ شروع میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس میں نے پیش کیا تھا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے سے بیعت کا مقصد پورا ہوتا ہے اور اس کا فہم حاصل کرنے کے لئے دنیاوی کاموں کے