خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 608
خطبات مسرور جلد 12 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء دلائی ہے کہ جوانی اور صحت کی عبادتیں ہی حق ادا کرتے ہوئے ادا کی جاسکتی ہیں۔بڑھاپے میں تو مختلف عوارض کی وجہ سے انسان وہ حق ادا ہی نہیں کر سکتا جو عبادت کا حق ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 258) بہر حال انسان کو سوچنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض تو طبیعت پر جبر کر کے بھی اگر ادا کرنے پڑیں تو ادا کرنے چاہئیں۔کجا یہ کہ سہولتوں کے باوجود یہ ادا نہ کئے جائیں۔اللہ تعالیٰ نے جب صحت دی ہے تو صحت کا شکرانہ بھی خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے لئے ضروری ہے اور یہ حق عبادت سے ادا ہوتا ہے۔صحت کی حالت کے شکرانے کے طور پر عبادتیں بجالانے کی ضرورت ہے، نمازوں کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔پس اس طرف توجہ دینے کی ہمیں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہئے اس کے بغیر ہمارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔اب میں دوسری بات کی طرف آتا ہوں یعنی اچھے اخلاق۔اعلیٰ اخلاق رکھنے والوں کا ایک بہت بڑا وصف سچائی کا اظہار ہے اور سچائی پر قائم رہنا ہے۔ایک مومن کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہے اور جھوٹ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر جھوٹ سے انتہائی نفرت ہو۔لیکن عملاً ہم دنیا میں کیا دیکھتے ہیں کہ مختلف موقعوں پر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ میرا ارادہ تو نہیں تھا لیکن غلطی سے میرے منہ سے جھوٹ نکل گیا۔اسائلم کے لئے یہاں درخواستیں دیتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں وہ تو میرے منہ سے فلاں بات غلطی سے نکل گئی۔میرا ارادہ نہیں تھا۔لیکن اگر عادت نہ ہو تو غلطی سے بھی بات نہیں نکلا کرتی۔بہر حال اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا ہے، ایسے لوگوں کو معاف کر دیتا ہے جن کو غلطی کا احساس ہو لیکن اس صورت میں انہیں اپنے اس عمل پر اظہار ندامت کرنا بھی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص جھوٹ بولے اور پھر اس پر ندامت بھی محسوس نہ کرے اور اس کے جھوٹ سے اگر کسی کو نقصان ہوا ہے تو اس کا ازالہ کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ الٹا ضد پر آ کر جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے یا یہ کہے کہ اس جھوٹ کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہو سکتا تھا تو ایسا شخص نہ تو ایمان پر قائم ہے نہ ہی اچھے اخلاق والا کہلا سکتا ہے۔یقینا ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ صحیح راستے پر نہیں ہے۔پھر اخلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة: 84) کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور اچھے طریق سے پیش آؤ۔ان سے اچھے طریق سے بات کیا کرو۔اب عام طور پر انسان دوسروں سے اکھڑ پن سے بات نہیں کرتا باوجود اس کے کہ بعض طبائع میں خشونت اور اکھڑ پن ہوتا