خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 607 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 607

607 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اکتوبر 2014ء خطبات مسرور جلد 12 نمازوں کے وہ معیار نہیں رکھ سکتا جو ایک مومن سے متوقع ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حالات کے مطابق سہولتیں بھی مہیا فرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ ضرورت سے زیادہ بوجھ انسان پر نہیں ڈالتا۔یا انسان کی حالت اور صلاحیت سے زیادہ بوجھ اس پر نہیں ڈالتا۔پس یہ کہنا کہ بعض کام ایسے ہیں جو انسان کے لئے ناممکن ہیں اس لئے کئے نہیں جا سکتے۔یہ بات کم از کم دین اسلام کے بارے میں غلط ہے۔یہ صحیح نہیں۔نمازوں کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا ہے کہ یہ تم پر فرض ہیں انہیں ادا کر و تو ساتھ ہی بہت سی سہولتیں بھی دے دیں۔مثلاً جو کسی وجہ سے کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا اسے کہہ دیا کہ بیٹھ کر پڑھ لو۔اور جو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا بعض بیماریوں کی وجہ سے، کمزوری کی وجہ سے کیونکہ بیٹھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے تو اسے کہہ دیا کہ لیٹ کر پڑھ لو۔پھر لیٹنے میں بھی کوئی شرط نہیں ہے کہ کسی خاص انداز میں لیٹنا ہے۔جس طرح انسان لیٹا ہوا ہے وہیں نماز پڑھ سکتا ہے۔بیمار ہے کمزور ہے، سفر یا اور کوئی وقتی مجبوری ہے تو کہہ دیا کہ قصر کر لو، جمع کر لو۔پس کوئی شخص اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے یہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن نہیں بلکہ ایسے لوگ جو اس قسم کے کام کرتے ہوں جن میں بظاہر ان کے کپڑے گندے ہوئے ہوں ان کو بھی یہی حکم ہے کہ اگر صاف کپڑے نہیں ہیں تو جیسے بھی پہنے ہوئے ہیں ان میں ہی نماز پڑھ لولیکن نما ز ضرور پڑھو۔اسی طرح اگر پانی نہیں ہے تو پھر وضو کے بجائے تیم کر لو۔غرض کہ کوئی عقلمند کسی کا یہ بہانہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔جب تک ہوش و حواس قائم ہیں نماز پڑھنا ضروری ہے۔پس نماز کے بارے میں یہ کہنا کہ بعض حالات میں ہمارے لئے ناممکن ہے یہ انتہائی غلط بات ہے۔بہت سے لوگوں سے پوچھ تو مختلف قسم کے بہانے بناتے رہتے ہیں۔ایسے لوگ ایسے بہانے کر کے ایمان سے دور ہٹ رہے ہوتے ہیں۔پس اس طرف ہم میں سے ہر ایک کو توجہ دینی چاہئے۔آئرلینڈ میں جب میں نے مسجد کے افتتاح پر خطبہ دیا اور عبادتوں کی طرف توجہ دلائی تو امریکہ سے ہمارے ایک مربی صاحب نے لکھا اور پھر بعض اور جگہوں سے بھی خط آئے کہ خطبے کے بعد مسجدوں میں حاضری بڑھ گئی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد میں نمازوں پر نہ آناکسی کی مجبوری کی وجہ سے یا ناممکنات کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ستی تھی اور جب تو جہ دلائی گئی تو اثر ہوا لیکن اس اثر کو مستقل قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔جو ایک مومن کا خاصہ ہے کہ اگر توجہ دلائی جائے تو پھر اس پر عمل کرتا ہے۔خدام الاحمدیہ اور لجنہ کو خاص طور پر کوشش کرنی چاہئے کہ نو جوانوں میں نمازوں کی پابندی کی عادت ڈالیں۔اس عمر میں صحت ہوتی ہے اور عبادتوں کا حق ادا ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس طرف خاص طور پر توجہ