خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 572

خطبات مسرور جلد 12 572 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء سمجھ لیتے ہیں کہ ہم متقی ہیں مگر اصل میں متقی وہ ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ کے دفتر میں متقی ہو۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے اسم ستار کی تجلی ہے (یعنی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ستاری فرما رہا ہے لیکن قیامت کے دن جب پردہ دری کی تجلی ہوگی اس وقت تمام حقیقت کھل جائے گی۔اس تجلی کے وقت بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو آج بڑے متقی اور پرہیز گار نظر آتے ہیں قیامت کے دن وہ بڑے فاسق فاجر نظر آئیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل صالحہ ہماری اپنی تجویز اور قرار داد سے نہیں ہوسکتا۔اصل میں اعمال صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کا کوئی فساد نہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔جیسے غذا طیب اس وقت ہوتی ہے کہ وہ بچی نہ ہو، نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنی درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جوفور جزو بدن ہو جانے والی ہو۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہو اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو، نہ عجب ہو، نہ ریا ہو، نہ وہ اپنی تجویز سے ہو۔جب ایسا عمل ہو تو وہ عملِ صالح کہلاتا ہے اور یہ کبریت احمر ہے۔( یعنی بہت بڑی نایاب چیز ہے۔) اس بارے میں کہ شیطان کس طرح گمراہ کر رہا ہے، ہر وقت مومنوں کے پیچھے لگا رہتا ہے۔اس لئے تمام لوگوں کو ، ہر مومن کو ، اس شیطان سے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے اور اس کے اعمال کو فاسد بنانے کے واسطے ہمیشہ تاک میں لگا رہتا ہے یہانتک کہ وہ نیکی کے کاموں میں بھی اس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔( یہ نہ سمجھیں کہ شیطان نیکی کے کاموں میں گمراہ نہیں کرتا ) اور کسی نہ کسی قسم کا فساد ڈالنے کی تدبیریں کرتا ہے۔نماز پڑھتا ہے تو اس میں بھی ریا وغیرہ کوئی شعبہ فساد کا ملانا چاہتا ہے۔“ (یعنی دکھاوے کی نمازیں) ایک امامت کرانے والے کو بھی اس بلا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔پس اس کے حملہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے حملے فاسقوں فاجروں پر تو کھلے کھلے ہوتے ہیں وہ تو اس کا گو یا شکار ہیں لیکن زاہدوں پر بھی حملہ کرنے سے وہ نہیں چوکتا اور کسی نہ کسی رنگ میں موقعہ پاکر ان پر بھی حملہ کر بیٹھتا ہے جو لوگ خدا کے فضل کے نیچے ہوتے ہیں اور شیطان کی بار یک در بار یک شرارتوں سے آگاہ ہوتے ہیں وہ تو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں لیکن جو ابھی خام اور کمزور ہوتے ہیں وہ کبھی کبھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔“ پھر عمل کی ضرورت کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 425-426)