خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 568
خطبات مسرور جلد 12 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء سکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال صالحہ کی وجہ سے ہر طرف اعلیٰ اخلاق دکھانے کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔جب ہم اپنے محلے اور شہر اور اپنے ملک میں اعمال صالحہ کی وجہ سے اسلام کی خوبصورتی دکھانے والے بنیں۔ہر قسم کے فسادوں ، جھگڑوں ، چغلی کرنے کی عادتوں ، دوسروں کی تحقیر کرنے ، رحم سے عاری ہونے ، احسان کر کے پھر جتانے والے لوگوں میں شامل نہ ہوں بلکہ ان چیزوں سے بچنے والے ہوں اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔قرآن کریم بار بار ہمیں اعلیٰ اخلاق کو اپنانے اور نیک اعمال بجالانے کی تلقین فرماتا ہے۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کسی وقتی جذبے کے تحت کسی پر احسان تو کر دیتے ہیں، مددکر دیتے ہیں لیکن بعد میں کسی وقت اس کو جتا بھی دیتے ہیں کہ میں نے یہ احسان تم پر کیا یا یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب ان کے احسان کا زیر بار انسان تمام عمران کا غلام بنار ہے۔اور اگر زیرا احسان شخص تو قع پر پورا نہ اترے تو پھر اسے تکلیفیں دینے سے بھی نہیں چوکتے۔یہ تو اسلامی تعلیم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں فرماتا ہے که يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالْمَنِ وَالْأَذَى(البقرة: 265 ) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا اذیت دے کر ضائع نہ کیا کرو کیونکہ یہ حرکتیں تو وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، جن کے ایمان کمزور ہیں نہ صرف کمزور ہیں بلکہ ایمان سے عاری ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ مختلف حوالوں سے ایک مومن کو بار بار یہ تلقین کی ہے کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے اور اس کے مختلف فوائد ہیں۔پس جہاں اعمال صالحہ کے ساتھ ایک مومن دوسروں کے لئے نفع رساں وجود بنتا ہے وہاں وہ خود بھی اس کے میٹھے پھل کھا رہا ہوتا ہے۔مثلاً جو ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کرنے والے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے والے ہوں گے۔یہ لوگ وہ ہوں گے جو جنتوں میں اعلیٰ مقام پائیں گے اور ایسی جنتوں میں ہوں گے جہاں نہریں چل رہی ہوں گی اور ان نہروں کے مالک ہوں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال کرنے والوں کو ایسے ایسے بڑے اور احسن اجر ملیں گے جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔صرف ایمان کا دعوئی احسن اجر کا حقدار نہیں ٹھہرا دیتا بلکہ اعمال صالحہ ہوں گے تو احسن اجر ملے گا، جنتیں ملیں گی ، مغفرت ہوگی۔پھر یہ بھی فرمایا کہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کرنے والوں کو خدا تعالیٰ پاکیزہ رزق دے گا۔جو اس دنیا کا بھی رزق ہے اور آخرت کا بھی رزق ہے۔عمل صالح کرنے والوں کو کوئی خوف نہیں ہو گا وہ امن میں ہوں گے کسی قسم کی پریشانی ان کو نہیں ہوگی۔نہ دنیا کا خوف اور نہ اگلے جہان کا یہ خوف کہ میرے سے کوئی نیکیاں نہیں ہوئیں۔اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو تسکین عطا