خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 564

خطبات مسرور جلد 12 564 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء خطبہ جمعہ سید نا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014 ء بمطابق 19 تبوک 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی رکھا ہے۔عمل صالح اسے کہتے ہیں جس میں ایک ذرہ بھر فساد نہ ہو۔یاد رکھو کہ انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔وہ کیا ہیں ریا کاری ( کہ جب انسان دکھاوے کے لئے ایک عمل کرتا ہے ) عجب ( کہ وہ عمل کر کے اپنے نفس میں خوش ہوتا ہے، یعنی ایسی خوشی جو خود پسندی کی ہو۔فرمایا: ”اور قسم قسم کی بدکاریاں اور گناہ جو اس سے صادر ہوتے ہیں ان سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، عجب، ریا، تکبر اور حقوق انسانی کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔جیسے آخرت میں انسان عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔یعنی عمل صالح کی اہمیت دنیا میں بھی ہے اور جس طرح یہاں جو عمل صالح بجالاتا ہے اس کا حساب آخرت میں ہو گا۔اسی طرح یہاں بھی اس کا حساب ہوگا یا یہاں کے عمل جو ہیں وہ آخرت میں انسان کے جزا سزا کا ذریعہ بنیں گے۔اور پھر اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اگر عمل صالح ہوں تو اس دنیا کی زندگی کو بھی جنت بنا دیتے ہیں۔فرمایا: ” اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچا رہتا ہے۔سمجھ لو کہ جب تک تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 274_275) آپ نے فرمایا کہ معصم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔پکا اور مضبوط عہد