خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 563
خطبات مسرور جلد 12 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء تھا کہ اس کا نام سنتے ہی یہ ہتھیار ڈال دیتے مگر یہ اور بھی شرارت میں بڑھے۔اب خود دیکھ لیں گے کہ انجام کس کے ہاتھ ہے۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 437) اللہ تعالیٰ ان مخالفین کو بھی جلد ان کے انجام جلد دکھائے اور احمدیت کا قافلہ تو انشاء اللہ تعالیٰ آگے بڑھتا چلا جائے گا اس کو اور تیزی سے آگے بڑھاتا چلا جائے اور ہم بھی ہمیشہ اس کا حصہ بنیں رہیں۔نماز جمعہ کے بعد میں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔جو مکرم جمیل احمد گل ہے یار گل صاحب ہیں جو کہ لمبے عرصے سے جرمنی میں مقیم ہیں۔جلسہ سالانہ یو۔کے پر فیملی کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔دو فیملیوں کے ساتھ دو گاڑیوں میں تھے۔3 ستمبر کو یہ واپس جرمنی جا رہے تھے تو رات کو لیمبرگ (Limburg) شہر کے قریب جہاں سڑک پر کام ہو رہا تھا ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔جسے ان کی بیٹی چلا رہی تھی۔اس حادثے میں پیچھے سے آنے والی ایک گاڑی نے اوور ٹیک کرنے کی کوشش میں ان کی گاڑی سے ٹکر ماری جس کے باعث ان کا توازن قائم نہ رہا۔گاڑی دوسری Lane میں چلی گئی اور مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔اس کے نتیجے میں جمیل احمد صاحب کی اہلیہ امتہ الحمید صاحبہ، ان کی پوتی عزیزہ سلینہ جمیلہ احمد عمر 11 سال اور نواسی فاتح رعنا عمر 10 سال موقع پر ہی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئیں۔اِنَّا لِلهِ وإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔جبکہ جمیل صاحب کی بیٹی ہندہ جو گاڑی چلا رہی تھیں وہ اوران کا نواسا شدید زخمی ہو کر قومے میں چلے گئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی حالت اب بہتر ہے اللہ تعالیٰ ان کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔مکرمہ امتہ الحمید صاحبہ نے تقریباً 15 سال بطور صدر لجنہ اماءاللہ آ فن باخ خدمت کی توفیق پائی اور بیت الجامعہ آ فن باخ (Offenbach) کے سنگ بنیاد کے موقع پر اینٹ رکھنے کی سعادت بھی پائی۔مرحومہ مکرم را نا کرامت اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع مانسہرہ کی بیٹی تھیں جنہیں اسیر راہ مولی رہنے کی سعادت نصیب ہوئی اور السلام علیکم کہنے پر پہلا مقدمہ بھی آپ پر ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ ان مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت کا سلوک فرمائے اور پیچھے رہنے والوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 03 اکتوبر 2014ء تا 09 اکتوبر 2014 ، جلد 21 شماره 40 صفحہ 05-08)