خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 538
خطبات مسرور جلد 12 538 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ایک جرنلسٹ نے کہا کہ میں نے کبھی اپنے چرچ میں بھی اتنی عزت نہیں دیکھی جتنی میری یہاں ہوئی ہے۔کہتی ہیں با قاعدہ چرچ جاتی ہوں اور بڑی مذہبی عورت ہوں۔نہ میں نے بھی شراب پی ہے، نہ سگریٹ نوشی کی ہے۔یہ سب برائیاں ہیں ان کو میں برا جھتی ہوں۔لیکن کہتی ہیں کہ جو بھی ہے یہاں میں نے اپنے آپ کو بہت خاص محسوس کیا۔قزاقستان سے ایک غیر از جماعت دوست آرتی میف صاحب کہتے ہیں کہ میں دل کی گہرائیوں سے خلیفہ امسیح اور جماعت احمدیہ کی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس جلسے پر مدعو کیا اور کچھ کہنے کا موقع دیا۔جلسہ سالانہ انگلستان میں شمولیت کی سب سے پہلی دعوت مجھے پندرہ سال پہلے دی گئی تھی اور جماعت احمدیہ کے بارے میں میری تحقیق اس وقت سے جاری ہے جب سے قزاقستان میں احمدیت کی ابتدا ہوئی ہے۔ایک مذہبی سکالر کی حیثیت سے جسے مختلف مذاہب پر تحقیق کرتے نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ میرا تجربہ ہے۔پھر کہتے ہیں مجھے سب سے زیادہ پرکشش آپ کی جماعت کا ماٹو محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، لگتا ہے۔یہ نظریہ بیسویں صدی کے آخر میں رونما ہونے والا ایک انقلاب تھا اور مذہب اسلام کے ایک روشن اور تابندہ باب کا آغاز تھا جس کے بارے میں آج تک کبھی دوسری اسلامی تحریکات نے تو جہ نہیں کی۔کہتے ہیں اس دور میں ہم سب دنیا میں ہونے والے پریشان کن واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔جہاں انتہا پسندی اپنے عروج پر اور مذہبی برداشت اور رواداری نا پید ہوتی جارہی ہے۔ایسے وقت میں یہ جماعت احمدیہ ہی ہے جو اپنے انسانیت دوست کاموں سے، اس دنیا کو دوبارہ اسی نور سے روشن کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو مذہب اسلام ابتدا ہی سے اپنے اندر رکھتا ہے۔کہتے ہیں آج جماعت احمد یہ عالم اسلام میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والی اور سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والی جماعت ہے۔اور یہ بات منطقی طور پر بھی اس لئے درست ہے کہ جماعت احمدیہ کی تعلیمات اس وقت کروڑوں لوگوں کے دلوں کے قریب ہیں۔یہ تعلیمات قزاق قوم کے دلوں کے بھی قریب ہیں اور زیادہ قابل فہم ہیں۔اور یہی بات وہاں موجود اسلام کے نام نہاد علماء کو بھی خوف میں مبتلا کئے ہوئے ہے جن کی پوری کوشش ہے کہ اسلام احمدیت کو نقصان پہنچا ئیں۔وہاں کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرغیزستان، قازقستان میں احمدیوں کو اپنی