خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 537

خطبات مسرور جلد 12 537 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء سے زیادہ پرامن ہیں۔اور ایسی ان کی باتیں خوبصورت ہیں اور تعلیم خوبصورت ہے کہ تمہیں بھی جا کے دیکھنی چاہئے۔کہتی ہیں شکر ہے کہ میں اس جلسے سے محروم نہیں رہی۔پھر Belize جس میں اس دفعہ جماعت قائم ہوئی ہے۔وہاں کی ایک جرنلسٹ مریم عبدل صاحبہ آئی ہوئی تھیں۔یہ بلیز کے کریم (Krem) ٹی وی کی معروف اینکر بھی ہیں۔موصوفہ نے جلسے میں شمولیت کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کا تجربہ میری توقعات سے زیادہ خوشگوار رہا۔ڈیوٹی پر موجود سارے لوگ بہت محبت اور احترام سے پیش آئے۔پھر کہتی ہیں جماعت کے ماٹو محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، نے مجھ پر بہت اچھا اثر چھوڑا ہے۔میں نے اس ماٹو پر بہت غور کیا اور گزشتہ چند دنوں میں مجھے ہر طرف سے صرف اور صرف محبت ہی دیکھنے کو ملی۔اس جماعت نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔میں اس پر شکر گزار ہوں اور ہمیشہ اسے یاد رکھوں گی۔اور کہتی ہیں کہ اس کے علاوہ میں تمام ڈیوٹیاں دینے والوں کا بھی شکر یہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔انہوں نے بتایا کہ وہ کٹر سنی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔کہتی ہیں میرا باپ بڑا سخت مسلمان تھا جس کی وجہ سے مجھے رد عمل ہوا اور میں نے بڑے ہو کر اسلامی احکامات پر عمل کرنا چھوڑ دیا کیونکہ پردہ، سکارف اور بہت ساری ایسی باتیں جن کا غلط رنگ میں یا صحیح رنگ میں دوسرے مسلمانوں میں رواج ہے۔ان میں اتنی سختی تھی کہ میں اسلام کی تعلیم سے دور ہوگئی۔بڑی ہوئی تو سکارف حجاب سب کچھ اتار کے پھینک دیا۔لیکن کہتی ہیں خدا تعالیٰ پر مجھے بہر حال یقین ہے۔لیکن جلسہ سالانہ میں یہاں آ کر مجھے ایک انوکھا تجربہ ہوا ہے۔یہاں میں نے کسی عورت کو پابند اور جکڑا ہوا نہیں دیکھا۔ہرلڑ کی، ہر عورت آزاد تھی۔میں نے عورتوں اور بچیوں کو دیکھا۔وہ آزادانہ طور پر پھر رہی تھیں۔نظمیں پڑھ رہی تھیں۔بازار میں جارہی تھیں۔ایک دوسرے کو محبت سے مل رہی تھیں۔اس نے میرے اندر یہ سوچ پیدا کر دی ہے کہ اگر میں احمدی مسلمان گھر میں پیدا ہوئی ہوتی تو میری روش باغیانہ نہ ہوتی۔میں نے یہاں بہت سی دوست بنائی ہیں۔پس احمدی خوش قسمت ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں۔بعض احمدی بچیوں میں بھی رد عمل ہوتا ہے، ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ غیر آ کر ہمارے سے متاثر ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے یہ ہر ایک کے لئے ایسی تعلیم ہے جس کا فطرت تقاضا کرتی ہے اور اس پر عمل