خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 525

خطبات مسرور جلد 12 525 خطبه جمعه فرموده مورخه 29 اگست 2014ء پس جلسے میں شامل ہونے والا ہر شخص خاموش تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔گزشتہ جمعہ کو میں نے کارکنوں کے حوالے سے بات کی تھی کہ ان کے عمل خاموش تبلیغ ثابت ہور ہے ہوتے ہیں۔لیکن یہ صرف کارکنان ہی نہیں بلکہ جلسے میں شامل ہونے والا ہر شخص مبلغ ہوتا ہے، دوسروں کو متاثر کر رہا ہوتا ہے۔پس ( جلسہ میں ) شامل ہونے والے ہر فرد، مرد عورت بچے بوڑھے کا فرض ہے کہ اپنے نمونے ایسے بنائے کہ توجہ کھینچنے والے ہوں اور یہ نمونے عارضی نہ ہوں بلکہ ہمیں اپنی حالتوں میں، اپنے اندر مستقل ایسی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ہمیں حقیقی مسلمان بنائے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اہمیت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم جلسے سے حقیقی فیض اٹھا سکیں۔اعلیٰ اخلاق کے اظہار کے بارے میں ایک مسلمان کو یہ بھی حکم ہے کہ سلامتی کا پیغام پہنچائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تقرأُ السَّلَام عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَّمْ تَعْرِفُ کہ ہر اس شخص کو جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے سلام کرو۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب افشاء السلام من الاسلام حدیث نمبر (28) یہ ایک ایسا حکم ہے اور نسخہ ہے کہ اگر اس پر اس کی روح کو سمجھتے ہوئے عمل کیا جائے تو دنیا کے فسادوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔جب انسان ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دے رہا ہو تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دل میں بغض، کینہ، نفرت یا تکبر کے جذبات ابھریں شرط یہ ہے کہ دل سے آواز نکل رہی ہو۔اگر یہ برائیاں نہ ہوں تو پھر اس بات کا بھی سوال نہیں کہ معاشرے میں کسی قسم کا فساد ہو۔پس سلامتی کے پیغام کو بہت وسعت دینے کی ضرورت ہے اور اسلام نے وسعت دے دی کہ صرف اپنوں اور اپنے جاننے والوں کے لئے یہ پیغام نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو یہ پیغام دو۔پس جلسے پر آنے والے ہر شخص کو جہاں اس بات کی پابندی کرنی چاہئے ، یہ کوشش بھی کرنی چاہئے کہ اس ماحول میں ایک دوسرے پر اس قدر سلامتی بکھیریں کہ پورا ماحول سلامتی بن جائے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور سلامتی کو حاصل کرنے والے بن جائیں۔بعض انتظامی باتیں بھی میں ذکر کرنا چاہتا ہوں گو اس بارے میں نسبتا پہلے بھی کافی توجہ ہے لیکن پھر بھی یاددہانی کے لئے کہنا چاہتا ہوں۔خاص طور پر وہ مرد جن کے ساتھ بچے بھی ہوتے ہیں۔چھوٹے بچے تو عموماً ماؤں کے ساتھ ہوتے ہیں، آٹھ نو سال کے بچے جو مردوں کے ساتھ ہوتے ہیں، وہ اتنے چھوٹے نہیں ہوتے کہ ان کو بہلانے کے لئے مرد باہر نکل جائیں اور جلسہ کی کارروائی کے دوران ان بچوں کو کھیلنے کی اجازت دیں۔اس طرح تو بچوں میں کبھی بھی جلسے کا احترام پیدا نہیں ہوگا۔سات