خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 524

خطبات مسرور جلد 12 524 خطبه جمعه فرموده مورخہ 29 اگست 2014ء فرماتے ہیں کہ جلسے میں کثرت سے لوگ آتے ہیں تو پھر وہ اخلاق فاضلہ کی ادائیگی کا حقیقی رنگ میں اظہار کریں۔اور اخلاق فاضلہ کی ادائیگی کا تبھی پتا چلتا ہے جب یہ اظہار ہورہا ہو۔جب لوگ اکٹھے ہوں۔اور اگر اخلاق کے اعلیٰ معیار کا اظہار ہورہا ہو تو ہم اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پیش کرنے والے بن جاتے ہیں۔یہی نمونے ہیں جو احمدیت کی تبلیغ کا بھی باعث بن رہے ہوتے ہیں اور اخلاق کے یہ نمونے دکھانا ہی ایک احمدی کا خاصہ ہے اور ہونا چاہئے۔بہت سے لوگ ان اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر ہی جماعت کی طرف مائل ہوتے ہیں۔آپ میں سے بھی کئی ہوں گے جن کے بزرگ جلسے کی برکات کی وجہ سے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔آپ کے بزرگوں کے نمونوں سے ہی بہت سوں کو حق کو پہچاننے کی توفیق بھی ملی ہو گی بلکہ یہاں بیٹھے ہوئے بھی ایسے لوگ ہوں گے جن کے رویوں کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملی ہوگی۔دنیا کے کئی ممالک سے یہ رپورٹس آتی ہیں۔لوگ جلسے میں شامل ہوئے اور شامل ہو نیوالے یہ کہتے ہیں کہ جلسے کے نیک اثر کی وجہ سے ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیم کا بھی پتا چلا۔لوگوں کے آپس کے تعلقات کی وجہ سے ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیم کا بھی پتا چلا۔پر امن فضا کو دیکھ کر ہمیں پتا لگا کہ اتنا ہزاروں کا مجمع بھی کس طرح پر امن رہ سکتا ہے۔اور حتی کہ بعض دینی رہنما بھی یا افریقہ میں بعض ممالک میں جن کی طرف سے پہلے مخالفت تھی، کسی طرح کسی ذریعہ سے ان کو جب جلسے پر لایا گیا تو نہ صرف مخالفت سے رک گئے بلکہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔تو یہ مخالف لوگ بھی اثر لیتے ہیں۔ابھی دو مہینے پہلے جرمنی میں بھی جلسہ ہوا۔اس میں ایک ہمسایہ ملک سے ایک غیر مسلم جوڑ امیاں بیوی آئے ہوئے تھے جو اسلام کے مخالف بھی تھے یا کم از کم ان پر اسلام کا اچھا اثر نہیں تھا۔احمد یوں سے کچھ واقفیت تھی۔انہوں نے کہا کہ جا کے دیکھیں ، احمدی بڑا شور مچاتے ہیں کہ اسلام بڑا پر امن اور سلامتی کا مذہب ہے۔دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا سچائی ہے۔زیادہ نیت ان کی یہی تھی کہ جا کر اعتراض کریں گے اور کوئی اثر نہیں لیں گے۔لیکن جلسے کے ماحول کو دیکھ کر اس کے بعد ان کی ملاقات بھی ہوئی، ان کی ایسی کا یا پلٹی کہ انہوں نے بیعت کر لی۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ جب بیعت لی جارہی ہوتی ہے تو بیعت کا نظارہ ایسی صورت پیدا کر دیتا ہے کہ غیر ارادی طور پر نہ چاہتے ہوئے بھی ہم بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔اگر ہمارے نمونے مختلف ہوں یا ہم میں سے اکثریت کے نمونے مختلف ہوں تو وقتی بیعت کا نظارہ ان لوگوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔یا کسی بھی قسم کی نیکی کا عارضی نظارہ وہ حالت پیدا نہیں کر سکتا جو دل کو کھینچنے والی ہو۔