خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد 12 520 خطبه جمعه فرموده مورخہ 29 اگست 2014ء میری سوچ ہر اس بات سے نفرت کرتے ہوئے اسے اپنے دماغ سے نکالنے والی ہو جس کے نہ کرنے کا تو نے حکم دیا ہے۔میں تقویٰ پر چلتے ہوئے حقوق العباد بھی ادا کرنے والا بنوں اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف بھی ہر وقت میری توجہ رہے اور میں اس چیز کو حاصل کرنے والا بن جاؤں جو تو نے میری زندگی کا مقصد قرار دیا ہے۔یعنی عبادت اور عبادت کا بھی وہ معیار حاصل کرنے والا بن جاؤں جو تو اپنے بندوں سے چاہتا ہے۔اخلاق فاضلہ میں بھی ایک ایسا نمونہ بن جاؤں جس کی تقلید کر نالوگ فخر سمجھیں۔پس اس جلسے میں شامل ہو کر اپنی دعاؤں اور سوچوں کے یہ دھارے بنانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ ہم پر بڑا احسان ہے کہ جہاں اس نے قرآن کریم میں ہمیں عبادتوں کے طریق بتائے ، اس کے معیار حاصل کرنے کے راستے دکھائے وہاں اخلاق فاضلہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے ان کی بھی نشاندہی فرمائی۔اعلیٰ اخلاق کا حاصل کرنا اور اس کا مظاہرہ کرنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔آپ نے اس معیار کا ایک جگہ یوں ذکر فرمایا کہ:۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہرا دے۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔یہ معیار حاصل کرنا کوئی عام بات نہیں ہے بہت سے ہیں جو دوسروں کے آرام کا خیال رکھتے ہیں لیکن اپنے وسائل کے لحاظ سے اگر اپنے آرام کو قربان کئے بغیر یہ خیال رکھ سکیں تو رکھتے ہیں لیکن یہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی اپنے آرام پر دوسروں کے آرام کو ترجیح دے۔خونی رشتوں میں بھی لوگ بعض دفعہ ایسی قربانی دے دیتے ہیں کہ اپنے آرام کو قربان کر دیتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں اور ہر ایک کے لئے اس معیار کی قربانی بہت مشکل ہے۔بلکہ دوسروں کے آرام کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ دوسروں کی تکلیف کو جب تک اپنی تکلیف کی طرح نہیں سمجھتے حقیقی مومن نہیں بن سکتے۔یہ الفاظ میرے ہیں مفہوم یہی ہے۔آپ نے فرمایا اگر میرا بیمار بھائی تکلیف میں مبتلا ہے اور میں آرام سے سو رہا ہوں تو میری حالت پر حیف ہے۔میرا فرض بنتا ہے کہ جہاں تک میرا بس چلے اس کے آرام کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کروں۔اگر کوئی دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے سخت گوئی کرے تو تب بھی میری حالت پر افسوس ہے کہ میں دیدہ و