خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 519 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 519

خطبات مسرور جلد 12 کے لئے ہو جانا ہے۔“ 519 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اگست 2014ء اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 414) غرض کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے ہر فرد کا یہ کام ہونا چاہئے کہ اپنے اس سفر کو اور یہاں آنے کے مقصد کو خالصہ اللہی سفر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا مقصد بنا ئیں۔اگر یہ نہیں تو جلسہ سالانہ کا۔یہ میں تکلیف اٹھا کر اور خرچ کر کے آنے والے اس جلسہ کی غرض و غایت کو پورا کرنے والے نہیں ہوں گے۔پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی اور اس ذمہ داری کی ادائیگی ہی ان کی اہمیت کو بڑھاتی ہے اور اسی لئے ان کارکنوں کی بھی اہمیت ہے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں ذکر کیا تھا جو اس نیک کام کے کرنے کے لئے آنے والے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔بلکہ کارکنوں کا ثواب اور اہمیت تو اس لحاظ سے دوگنی ہو جاتی ہے کہ وہ ایسے مہمانوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ہی پروگراموں کو سن کر اس جلسے کے ماحول میں شامل ہو کر اپنی عملی اور اعتقادی زندگی کی بہتری کے سامان بھی کر رہے ہیں۔پس اس بات کو مہمان بھی اور میز بان بھی ، ڈیوٹی والے کارکنان بھی یاد رکھیں کہ یہ تین دن ان کی عملی اور اعتقادی بہتری کی ٹریننگ کا کیمپ ہے۔پس اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اس کے لئے اپنی تمام تر توجہ اور طاقتوں سے اس میں حصہ لیں۔ہم نے ہمیشہ اپنے سامنے جلسے کے وہ مقاصد رکھنے ہیں اور رکھنے چاہئیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں۔آپ کی جلسے کی غرض و غایت اپنے ماننے والوں کو اس روحانی ماحول میں رکھ کر ایک ایسا نمونہ بنانا تھا جو دنیا کے لئے قابل تقلید ہو، جس کے پیچھے دنیا چلے۔آپ نے فرمایا : میرے ماننے والوں کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں۔(ماخوذ از شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394) یعنی انہیں ہر وقت آخرت کی فکر ہو۔یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔انسان اپنی کوشش سے یہ مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ہاں اس کے لئے جس حد تک عملی کوشش ہو سکتی ہے کر کے پھر دعاؤں میں لگ جائے کہ اے اللہ دنیا کے مسائل اور روکیں قدم قدم پر میری راہ میں حائل ہیں تو اپنے فضل سے مجھے اس راستے پر چلا دے جو تیری رضا کا راستہ ہے۔میرے دل میں اپنا خوف ایسا بھر دے جو ایک پیارے اور اپنے محبوب کے لئے ہوتا ہے۔کسی ظلم کی وجہ سے وہ خوف نہیں ہوتا بلکہ محبت کی وجہ سے ہوتا ہے۔کہیں میرا کوئی عمل تیری ناراضگی کا موجب نہ بن جائے۔میرا ہر قدم ان نیکیوں کی طرف اٹھے جن کے کرنے کا تو نے حکم دیا ہے اور