خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد 12 512 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء پھر روایت سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس تھوڑے سے کھانے سے جو حضرت عائشہ کے مطابق صرف آپ کی افطاری کے لئے تھا مہمان سیر بھی ہو گئے۔رض الله (مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه -794-795 حدیث 24015 مسند طخفة الغفاري مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی بھی اس رنگ میں تربیت کی تھی کہ صحابہ بھی بے لوث مہمان نوازی کا جذ بہ رکھتے تھے۔ہر قسم کی تکلیف سے آزاد ہو کر کشائش میں اور مددگاروں کی موجودگی میں تو مہمان نوازی سب کر لیتے ہیں۔اصل مہمان نوازی تو وہ ہے جو اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر کی جائے۔اور مہمان کا یہی حق ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور مومنین کو اس طرف توجہ دلائی کہ اس حق کو ادا کرو۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ہی اثر تھا اور صحابہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلنے کا شوق تھا جس کی وجہ سے صحابہ میں بھی اس مہمان نوازی کی حیرت انگیز مثالیں ملتی ہیں۔ایسی مثالیں مہمان نوازی کی ہیں جس نے اللہ تعالیٰ کو بھی خوش کر دیا اور اس خوشی کا اظہار اللہ تعالیٰ نے اسی وقت جب مہمان کی مہمان نوازی ہو رہی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کر دیا۔وہ میاں بیوی اور بچے کس مقام کے میزبان تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے خوشی کا اظہار کیا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو خراج تحسین ملا۔اس کی تفصیل ایک روایت میں یوں بیان ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسافر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کہلا بھیجا کہ مہمان کے لئے کھانا بھجوا ؤ۔جواب آیا کہ پانی کے سوا آج گھر میں کچھ نہیں ہے۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اس مہمان کے کھانے کا بندو بست کون کرے گا۔ایک انصاری نے عرض کی کہ حضور میں انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارات کا اہتمام کرو۔بیوی نے جوابا کہا کہ آج گھر میں تو صرف بچوں کے کھانے کے لئے ہے۔ہمارے کھانے کے لئے کچھ نہیں۔انصاری نے کہا کہ اچھا تم کھانا تیار کرو اور پھر چراغ جلا ؤ اور جب بچوں کے کھانے کا وقت آئے تو ان کو تھپ تھپا کر بہلا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا۔چراغ جلایا۔بچوں کو کسی طرح سلا دیا۔پھر چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور جا کر چراغ بجھا دیا اور پھر دونوں مہمان کے ساتھ بیٹھے۔یہ ظاہر کرنے لگے کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں۔پس وہ دونوں رات بھو کے ہی رہے۔صبح جب وہ انصاری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں