خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 12 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء ایسے لوگ تومل جائیں گے جو وفات مسیح کے دلائل جانتے ہوں یا مولوی کے اعتراضات کے منہ توڑ جواب دے سکتے ہوں۔یہاں بھی آپ دیکھیں کہ بعض چینلز پر یا انٹرنیٹ پر مولوی جو اعتراض کرتے ہیں اُن کے جواب اور بعض دفعہ بڑے عمدہ اور احسن رنگ میں جواب ایک عام احمدی بھی دے دیتا ہے۔مجھے بھی بعض لوگ ٹی وی کے حوالے سے اپنی گفتگو کے بارے میں رپورٹ بھجواتے ہیں اور اپنے جوابات بھی لکھتے ہیں اور اُن کے جواب بھی اکثر ا چھے اور علمی ہوتے ہیں۔پس اس لحاظ سے تو ہم ہتھیاروں سے لیس ہیں مگر ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جنہیں یہ علم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ کو کس رنگ میں پیش کیا ؟ آپ نے معرفت اور محبت الہی کے حصول کے کیا طریق بتائے ؟ اُس کا قرب حاصل کرنے کی آپ نے کن الفاظ میں تاکید کی ؟ خدا تعالیٰ کے تازہ کلام اور اُس کے معجزات و نشانات آپ پر کس شان سے ظاہر ہوئے؟ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 450-451 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) اس لئے بعض دفعہ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ایک شخص وفات مسیح کا تو قائل ہوتا ہے، اُس کی دلیل بھی جانتا ہے۔ماں باپ کی وراثت میں اُسے احمدیت بھی مل گئی ہے لیکن ان باتوں کا علم ہونے کے باوجود، کہ یہ سب کچھ جانتا ہے، دوسری طرف ان باتوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ایمانی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے جو ابھی میں نے کیں کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت یا خدا تعالیٰ کے تازہ کلام کے معجزات و نشانات یا قرب حاصل کرنے کے طریق، اس کا علم نہیں ہوتا اس لئے کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ایمان بھی ڈانوا ڈول ہونے لگتا ہے اور عملی کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔پس بیشک وفات مسیح کے مسئلے میں تو ایک شخص بڑا پکا ہوتا ہے لیکن اس مسئلے کے جاننے سے اُس کی عملی اصلاح نہیں ہوسکتی۔اس لئے اس پہلو سے جماعت میں بعض جگہ کمزوری نظر آتی ہے۔پس جب تک ہماری جماعت کے علماء، مربیان اور وہ تمام امراء اور عہدیداران جن کے ذمہ جماعت کے سامنے اپنے نمونے پیش کرنے اور اصلاح کے کام بھی ہیں، اس بات کی طرف ویسی توجہ نہیں کرتے جیسی کرنی چاہئے اور جماعت کے ہر فرد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرتے جو کوشش کرنے کا حق ہے، اُس وقت تک جماعت کا وہ طبقہ جو قوت ارادی کی کمزوری کی وجہ سے عملی اصلاح نہیں کر سکتا ، جماعت میں کثرت سے موجود رہے گا۔ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں