خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد 12 آپ کا خلق قرآن تھا۔494 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 اگست 2014ء (مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه 144 حديث عائشة رضى الله عنها حديث نمبر 25108 عالم الكتب بيروت 1998ء) جو کچھ اس میں یعنی قرآن کریم میں ہے اس کا عملی نمونہ آپ تھے۔پس انبیاء کا وجود دنیا میں نمونہ ہوتا ہے۔یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ان کے وجود یا ان کے نمونے سے کسی کو ٹھوکر لگے۔یہاں اس آیت میں اللہ اور رسول کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ جو اللہ کہتا ہے وہی اس کے رسول کہتے اور کرتے ہیں۔پس اگر روحانی زندگی چاہتے ہو تو آ نکھیں بند کر کے رسول کے پیچھے چل پڑو۔اس کی اتباع کرو۔اس کے حکموں پر عمل کرو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو یہ بھی فرمایا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ضروری ہے اور خدا کی محبت ہی وہ مقام ہے جس سے روحانی حیات ملتی ہے ، روحانی زندگی ملتی ہے۔پس حقیقی روحانی زندگی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہنا ضروری ہے۔اور جب تک ایک مسلمان کہلانے والا حقیقی رنگ میں اس بات کو نہیں مانتا جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ میں اعلان کروائی کہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (آل عمران : 32)۔پس میری اتباع کر و تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔اس وقت تک ایک مسلمان کہلانے والا حقیقی متبع اور مومن نہیں کہلا سکتا۔اور آپ کی اتباع کے لئے آپ کے نمونے کی لکھی ہوئی تفصیل جیسا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن کریم کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔یہ قرآن کریم ہی ہے جو کہتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں نا انصافی پر مجبور نہ کرے۔یہ قرآن کریم ہی ہے جو کہتا ہے کہ بلا وجہ کسی کا خون نہ بہاؤ۔یہ قرآن کریم ہی ہے جو کہتا ہے مخلوق کے حقوق ادا کرو۔یہ قرآن کریم ہی ہے جو کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں جو بلا تخصیص مذہب و ملت ہر ایک کے لئے رحمت ہیں۔رحمانیت اس بات کا ہی تقاضا کرتی ہے کہ وہ بلا تخصیص ہو۔غرض کہ جیسے جیسے قرآن کریم کو پڑھتے جائیں اس میں ہر قسم کی رہنمائی اور ہدایت ملتی چلی جاتی ہے۔پس قرآن کریم تو ہر اس شخص کے اعتراض کو رڈ کرتا ہے جو آجکل کے مسلمانوں کے غلط عمل دیکھ کر غیر مسلم یا معترضین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر کرتے ہیں کہ یہ زندگی ہے؟ تم کہتے ہو کہ رسول زندگی دینے والا ہے لیکن کیا یہ زندگی ہے جو دینے کے لئے تمہارا رسول اور تمہارا دین آیا ہے؟ انبیاء تو