خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 493
خطبات مسرور جلد 12 493 33 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 اگست 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 اگست 2014ء بمطابق 15 ظہور 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال: 25) کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور رسول کی بات پر لبیک کہو۔جب وہ تمہیں بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے۔اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو زندگی دینے کے لئے بھیجتا ہے۔ان یعنی مومنوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی موت کو زندگی عطا کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ زندگی روحانی زندگی ہے نہ کہ ظاہری موت سے زندگی۔یہاں ایک صداقت کا بھی اظہار ہے کہ مومن کو ہمیشہ نبی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی اصلاح کے سامان کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہماری زندگی کے سامان کئے اور ایک کامل اور مکمل شریعت قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی۔اور اس پر عمل کرنے کا کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے والوں نے محسوس کیا اور محسوس کرتے تھے۔جو جتنا زیادہ آپ کے قریب تھا اتنا ہی زیادہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونے کا حسن نکھر کر واضح ہوتا تھا اور آپ کی بیویاں آپ کے اس حسن عمل کی سب سے زیادہ گواہ ہو سکتی تھیں اور تھیں۔تبھی تو جب سوال کرنے والے نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟ آپ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت عائشہ نے فرما یا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن