خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 490
خطبات مسرور جلد 12 490 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء ادا کیا۔انصاف پر قائم رہتے ہوئے بندوں کے حق کی ادائیگی کی کسی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت کا حق ادا کیا۔تیسر از نا کے گناہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بچا اور اس حوالے سے دعا کی لیکن ان سب کی دعاؤں کا مقصد مشترکہ تھا کہ پتھر ہٹ جائے اور وہ پتھر ہٹ گیا۔پس یہ انفرادی نیکیاں اور انفرادی نیکیوں کے حوالے سے کی گئی دعا ئیں اجتماعی قبولیت کا نظارہ دکھانے والی بن گئیں۔پس اس حدیث سے جہاں اور بہت سے سبق ملتے ہیں وہاں ایک یہ بہت بڑا سبق ہے کہ افراد کی انفرادی نیکیاں اور دعا ئیں اجتماعی مصیبت کو دور کرنے کا باعث بنتی ہیں۔پس جب ہم ایک جماعت میں پروئے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں خدا تعالیٰ سے اجتماعی تکالیف اور ابتلا کے دُور کرنے کے لئے دعائیں مانگنے کی ضرورت ہے۔صرف اپنی ذاتی مشکلات اور پریشانیوں کو اپنا سمجھتے ہوئے ان کے لئے دعاؤں میں ہی نہ ڈوبے رہیں بلکہ جماعتی دعاؤں میں بھی وہ اضطراب اور اضطرار پیدا کریں جو اپنی ذاتی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے ایک انسان میں پیدا ہوتا ہے۔جماعت کی ترقی اور حالات کے بدلنے کے لئے جب دونفل پڑھتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ پڑھا کریں اور اکثریت مجھے لکھتی بھی ہے کہ ہم پڑھتے ہیں تو اس میں درد بھری دعائیں کریں۔ان غار میں ہنسے ہوئے لوگوں کی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر دنیاوی مدد سے مایوس ہو کر انہوں نے بیشک اپنی کسی نیکی جو خالص خدا تعالیٰ کے لئے انہوں نے کی تھی اس کا حوالہ دے کر دعا مانگی لیکن ان کی جو اس وقت اضطراری کیفیت ہوگی جو اضطراب ان میں پیدا ہوا ہوگا ، ہر طرف سے مادی ذرائع سے جو مایوسی تھی اس سے جو اضطراب پیدا ہوسکتا ہے اس کا انسان اندازہ کر سکتا ہے۔پس جہاں ہمیں اپنے عمل خدا تعالیٰ کے لئے خالص کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ اعمال قبولیت دعا میں بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں جماعت کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہوئے بڑی تضرع اور عاجزی سے اسے دور کرنے کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے۔اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔“ پھر ایک جگہ ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 27)