خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 478
خطبات مسرور جلد 12 478 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء با وجود اس کے کہ کوئی عہدہ نہیں تھا لیکن جب بھی اور جہاں بھی جماعتی خدمت کی ضرورت ہوتی فوراً پیش پیش ہوتیں۔شہادت کے وقت میں ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی اور کانوں میں بالیاں کے علاوہ کچھ نقدی بھی تھی۔شاید انہوں نے اس لئے لے لی ہوگی کہ اب شاید یہاں سے جانا پڑے تو کچھ پیسے ہوں۔لیکن اس دوران میں ہی سانس رکنے سے ان کی موت ہو گئی۔تو جب پوسٹ مارٹم کے لئے لے جایا گیا تو ان ظالموں نے ان میں سے بھی کچھ چیز میں کوٹ لیں۔شہادت سے ایک روز قبل انہوں نے محلے میں افطاری بھی کروائی تھی اور شہید ہونے والی پوتی حراء تبسم نے گھروں میں جا کے افطاری تقسیم کی تھی۔محمد بوٹا صاحب جن کی والدہ اور دونوں بیٹیاں شہید ہوئی ہیں، سعودی عرب میں بھی رہے تھے۔وہاں سے پھر حالات کی وجہ سے واپس پاکستان آگئے۔اب پاکستان آ کر انہوں نے گاڑیوں کی سروس سٹیشن کا کام شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کافی اچھا تھا۔ان کے بھائی فضل احمد صاحب بھی جزیٹر کرائے پر دینے کا کام کرتے تھے۔اچھا کاروبار تھا اور یہ بھی وہاں کے لوگوں کے حسد کی ایک وجہ تھی۔امیر صاحب گوجرانوالہ نے بتایا کہ ساری فیملی بڑی شریف النفس ، بڑی مخلص اور جماعتی غیرت رکھنے والی ہے۔جس علاقے میں یہ لوگ آباد ہیں یہ حلقہ بھی انہی کی وجہ سے یہاں بنا تھا اور انہوں نے وہاں نماز سینٹر بھی بنایا ہوا تھا۔چندہ جات اور دیگر جماعتی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ہر طرح سے ہر وقت جماعت کے ساتھ تعاون اور اطاعت میں پیش پیش تھے۔شہید مرحومہ نے پسماندگان میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ایک بیٹے تو یہی محمد بوٹا صاحب ہیں جن کی دو بیٹیاں شہید ہوئی ہیں اور جو دو بچیاں ہیں ان کے پسماندگان میں والدہ والد اور پانچ سال کا ایک بھائی عطاء الواسع ہے اور ایک بہن عزیزہ سدرۃ النور تین سال کی ہے۔امیر صاحب گوجرانوالہ مزید یہ بھی لکھتے ہیں کہ 27 / جولائی اتوار کے دن ساڑھے نو بجے تقریباً چارسو یا پانچ سو افراد نے احباب جماعت احمد یہ حلقہ کچی پمپ والی کے گھروں پر حملہ کر دیا۔شر پسندوں نے فیس بک پر کسی قابل اعتراض تصویر کو احمدی خادم مکرم عاقب سلیم صاحب والد مکرم محمد سلیم صاحب کی طرف منسوب کیا اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کر کے فساد پھیلا یا جبکہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے۔مشتعل افراد نے ان کے علاوہ جو جہاں شہید ہوئے ہیں مزید چھ گھروں کو آگ لگائی اور ان کا سامان لوٹا۔متاثرہ افراد کی نزدیک ہی دکانیں بھی تھیں جن پر حملہ کیا اور ان کے ویلڈنگ پلانٹ اور ہیوی جنریٹر، لو ہے کے گارڈر اور عمارتی سامان جس کا کاروبار تھا وہ سب لوٹ لیا۔