خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد 12 477 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء قرآن ہے ان کے گھر پناہ لی۔وہ شریف آدمی تھے انہوں نے پناہ دے دی۔جبکہ محمد بوٹا صاحب اور ان کے بھائی فضل احمد صاحب کی فیملیز اپنے ہی مکان کی بالائی منزل پر ایک کمرے میں جا کر محبوس ہو گئیں۔اتنی دیر میں شدت پسندوں نے گھر کے اندر داخل ہو کر بالائی منزل کے اس کمرے کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی جہاں یہ گیارہ خواتین و بچے بند تھے۔جب دروازہ نہ ٹوٹا تو انہوں نے کمرے کے لاک میں ایفی ڈال دی تا کہ اندر سے بھی دروازہ نہ کھلے اور سیل ہو جائے۔کمرے کی کھڑکی کے شیشے توڑ دیئے اور پلاسٹک کا سامان اور دیگر اشیاء اکٹھی کر کے عین دروازے اور کھڑکی کے باہر آگ لگا دی۔اس آگ کا زہریلا دھواں دروازے کے نیچے سے اور ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے کمرے میں بھر گیا اور ان ظالم شدت پسندوں نے آگ لگانے کے بعد اس کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر وہاں کے اندر رہنے والوں کو استہزائیہ رنگ میں الوداع کہا اور چلے گئے۔جس میں گیارہ احمدی خواتین اور بچے بند تھے۔بہر حال دھوئیں کی وجہ سے سانس رکنے کی وجہ سے بشری بیگم صاحبہ اور ان کی دو پوتیاں حراء تبسم اور کائنات تبسم شہید ہو گئیں۔انَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔حملہ آور اس قدر مشتعل تھے کہ انہوں نے موقع پر زخمیوں کو اٹھانے اور آگ بجھانے کے لئے آنے والی ہسپتال کی ایمبولینس اور ایک دوسری ایمرجینسی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کو بھی موقع سے بھگا دیا اور تمام شدت پسند گھروں کو آگ لگاتے رہے، جلاتے رہے اور ساتھ ناچتے بھی رہے۔جبکہ پولیس یہ ساری کارروائی موقع پر خاموش تماشائی کی طرح کھڑی دیکھتی رہی اور کسی طرح بھی مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔میڈیا نے بھی بڑی دیر کے بعد آکر اس کی کوریج شروع کی۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا جب شدت پسند اپنا کام ختم کر چکے تھے۔اس سانحہ میں شہید ہونے والی مکرمہ بشری بیگم صاحبہ شہید کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم میاں شہاب الدین صاحب آف لودھی نگل کے ذریعہ ہوا تھا جن کو خلافت ثانیہ میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔یہ لوگ تو سیالکوٹ چلے گئے تھے، ان کی شادی گوجرانوالہ میں منیر احمد صاحب کے ساتھ ہوئی۔پھر یہ 1976ء میں یہاں آگئیں۔ان کے خاوند منیر احمد صاحب بھی چھ ماہ قبل وفات پاگئے تھے۔دیگر دونوں شہداء جراء قسم اور کائنات تبسم ان کی پوتیاں تھیں۔یہ شہید مرحومہ جو تھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجوقتہ نمازی ، تہجد گزار، تلاوت کرنے والی ، نہایت ملنسار، ہمدرد، مہمان نواز ، اعلیٰ اخلاق کی مالک تھیں۔جانوروں اور پرندوں کو دانہ اور خوراک وغیرہ ڈالنا ان کا روزانہ کا معمول تھا اور