خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 476

خطبات مسرور جلد 12 476 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء صاحب کو دکان سے اور چا خلیل احمد صاحب کو گھر سے موقع پر بلا یا جنہوں نے آ کر معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کی۔اس دوران خلیل احمد صاحب ٹوٹی بوتل لگنے سے زخمی بھی ہو گئے۔بہر حال وقتی طور پر یہ معاملہ ختم ہو گیا۔گھر آ گئے اور اپنے بھائی کو گھر چھوڑ کے سروس سٹیشن جو ان کی دکان تھی وہاں چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد ہی وہ ڈاکٹر صاحب جن کی کلینک کے سامنے یہ معاملہ ہوا تھا۔انہوں نے محمد بوٹا اور فضل احمد صاحب کو فون کر کے بتایا کہ یہاں لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں اور جلوس کی شکل اختیار کر کے آپ لوگوں کے گھروں پر حملہ کی غرض سے آ رہے ہیں۔اسی طرح انجمن تاجران کی طرف سے بھی اعلان کیا گیا کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں اور دکانیں بند کر دیں۔جس نے دکان بند نہ کی وہ خود ذمہ دار ہوگا۔یہ با قاعدہ planning تھی۔اور یہ سارا کام جیسا کہ میں نے کہا منصوبہ بندی کے ساتھ شروع ہوا۔اس علاقے میں قریب قریب مختلف گلیوں میں اٹھارہ احمدی احباب کے گھر ہیں۔اس اطلاع کے ملتے ہی پندرہ احمدی گھرانوں کے احباب و خواتین تو اپنے گھروں سے نکل گئے۔تاہم محمد بوٹا صاحب اور دیگر دو گھروں محمد اشرف صاحب صدر جماعت اور ان کے بھائی کی فیملیز ابھی گھر میں تھیں کہ جلوس نے رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے حملہ کر دیا اور احمدی گھروں کے قریب آ کر شدید نعرے بازی کی۔فائرنگ بھی کی اور ساتھ ہی گھروں کے بند دروازوں کو توڑنا بھی شروع کر دیا۔اب اس کے بارے میں بھی پولیس نے غلط رپورٹ اخباروں کو دی ہے کہ دونوں طرف سے فائرنگ ہوئی۔حالانکہ فائرنگ صرف ان مخالفین نے کی تھی۔جماعت کی طرف سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ان لوگوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ ہر طرف سے ایک ساتھ حملہ کیا۔اس علاقے میں شیعہ حضرات کی بہت زیادہ تعداد آباد ہے۔ویسے تو شیعہ بہت باتیں کرتے ہیں لیکن انہوں نے بھی اُس وقت ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا بلکہ بڑھ چڑھ کے دیا۔اس واقعہ کے بعد صدر جماعت نے فوری طور پر ایس ایچ او پیپلز کالونی کو مطلع کیا جس پر اس نے کہا کہ میں خود پولیس نفری کے ساتھ موقع پر موجود ہوں اور میں حملہ آوروں کو مذاکرات کے لئے اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔بہر حال حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کو ساتھ لے کر نہیں گیا اور اس دوران شدت پسندوں نے دوبارہ حملہ کر دیا جو اسلحہ اور دروازے اور دیواریں توڑنے والے ہتھوڑوں گینتیوں سے لیس تھے۔ہتھوڑے اور گینتیاں اور اسلحہ سب کچھ ان حملہ آوروں کے پاس تھا۔ان کے ساتھ اور مجمع بھی آکے شامل ہو گیا۔آتے ہی انہوں نے پہلے بجلی کے میٹر توڑے، تاریں کاٹیں۔بہر حال حالات کی سنگینی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ صدر صاحب اور ان کے بھائی کی فیملیز نے چھت کے ذریعہ غیر از جماعت ہمسایہ جو کہ اہل