خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 475

خطبات مسرور جلد 12 475 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء اور ہر روز نئے سے نئے رزق سے فیض اٹھارہے ہیں۔پس ہمارے یہ شہداء بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں جنتوں میں پھر رہے ہیں۔اور یہ بھی شاید احمدیت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ تمام قربانی کرنے والیاں ، عورت اور بچیاں ہی ہیں۔کوئی مرد ان میں شامل نہیں۔پس ان معصوموں کی قربانیاں ان ظالموں کی جہنموں کو قریب تر لا رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ یہ موتیں سانس رکنے سے ہوئی ہیں کسی کو جلنے کے زخم نہیں آئے۔با وجود اس کے کہ جو ظالم لوگ تھے بار بار آگ کے سامان کر رہے تھے اور مختلف قسم کا ایندھن یا ٹوٹا ہوا سامان، بالٹیاں، گھر کا فرنیچر وغیرہ جس کو یہ لوٹ نہیں سکتے تھے یا لوٹ کے لے جانا نہیں چاہتے تھے، (باقی قیمتی سامان تو لوٹ کے لے گئے ، اس کو بار بار آگ میں ڈالتے تھے تا کہ آگ کبھی نہ بجھے۔اب اس واقعہ کی جور پورٹ ہے، کچھ کوائف ہیں وہ بھی میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔ان شہداء میں جو خاتون شہید ہوئی ہیں ان کا نام بشری بیگم صاحبہ تھا جو ہلیہ تھیں مکرم منیر احمد صاحب مرحوم کی۔بچیاں جو ہیں وہ عزیزہ حرا تقسیم بنت مکرم محمد بوٹا صاحب اور کائنات تبسم بنت مکر محمد بوٹا صاحب۔اس واقعہ کو ویسے تو تمام لوگوں نے سن ہی لیا ہے۔مختلف جگہوں پر آچکا ہے لیکن پھر بھی میں بیان کر دیتا ہوں کہ 27 جولائی 2014ء کو کچی پمپ والی عرفات کالونی گوجرانوالہ میں مخالفین احمدیت شدت پسندوں نے احمدی احباب کے گھروں پر حملہ کیا۔گھروں کو آگ لگا دی جس کے نتیجہ میں جیسا کہ میں نے بتایا بشری بیگم صاحبہ اہلیہ منیر احمد صاحب مرحوم عمر 55 سال اور دو کم سن بچیاں عزیزہ حرارت تبسم عمر 6 سال اور عزیزہ کائنات تبسم عمر 8ماہ جومحمد بوٹا صاحب کی بچیاں تھیں شہید ہوئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تفصیلات اس کی یہ ہیں کہ وقوعہ کے روز شہید مرحومہ کے ایک بیٹے مکرم محمد احمد صاحب افطاری کے بعد ایک قریبی کلینک پر دوائی لینے گئے۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ ان کے چچازاد وقاص احمد کو بعض لوگوں نے روکا ہوا ہے۔ان کے پوچھنے پر کہ کیا معاملہ ہے؟ ان لوگوں نے ان سے بھی بد کلامی شروع کر دی اور الزام عائد کیا کہ آپ کے ایک نوجوان نے فیس بک (facebook) پر خانہ کعبہ کی تصویر کی توہین کی ہے۔نعوذ باللہ۔جس پر انہوں نے کہا کہ ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ان باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ ایک سوچی سمجھی سکیم تھی۔بہر حال فورا ہی وہ لوگ جو دشمن تھے مار کٹائی پر آمادہ ہو گئے اور شیشے کی بوتلیں تو ڑ کر مارنے لگے جس پر محمد احمد صاحب نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر فوری طور پر بذریعہ فون اپنے بھائی محمد بوٹا