خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 469
خطبات مسرور جلد 12 469 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء ٹوئٹ (tweet) کیا جاتا ہے ) پیغام دے رہے ہیں اور اپنے تاثرات چھوڑ رہے ہیں کہ احمدیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا بڑا اچھا ہوا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اور افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ہو رہا ہے۔إِذْهُمْ عَلَيْهَا قُعُود سے یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ مستقل بیٹھے رہیں گے۔یہ عذاب دینے کی تدبیریں لمبی کرنے کی کوشش کریں گے۔قعود کا مطلب بیٹھنا ہے اور کسی چیز پر بیٹھے رہنا یہ بھی محاورہ ہے کہ لمبے عرصہ تک کوئی کام کرتے چلے جانا۔پس ان کے جھوٹ فریب اور تکلیفوں کا یہ سلسلہ جو ہے یہ تو چل ہی رہا ہے اور شاید لمبا چلتا رہے گا کیونکہ مخالفین تو پیدا ہوتے رہیں گے۔اور یہ لوگ کوشش کرتے چلے جائیں گے کہ اس کو چلاتے رہیں۔لیکن اس کی کوئی ایک انتہا بھی ہے اور وہ انتہا یہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کر دی کہ تم بھی چلتے جاؤ اور آخر کا ر ہو گا کیا؟ تم خود اس آگ سے ہلاک کئے جاؤ گے۔خود اس آگ میں ڈالے جاؤ گے۔ان کے علماء بھی جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ سے کام لے رہے ہیں۔ان کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کے دعوے کو رد کر سکیں سوائے اس کے کہ جھوٹی باتیں بنائی جائیں، آپ کی کتابوں میں سے توڑ مروڑ کر واقعات پیش کئے جائیں، اقتباسات لئے جائیں۔لیکن مخالفت نے انہیں اندھا کر دیا ہے۔یہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔وہ آگیں بھڑ کانے میں عوام الناس کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔پس یہ آ گئیں کبھی تو حقیقی رنگ میں یہ بھڑکاتے ہیں اور مومنوں کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں۔کہیں اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہیں ناکام رہتے ہیں۔اور پھر کبھی کیا بلکہ یہ تو مستقل ہی ہے کہ احمدیت کی مخالفت کی جو آگ ہے وہ یہ ہر طرف بھڑکانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔آجکل انہوں نے پاکستان کے ہر شہر اور ہر گلی میں جھوٹ کے پلندوں پر مشتمل احمدیت مخالف اشتہار لگائے ہوئے ہیں اور یہ سرکاری عمارتوں پر بھی حتی کہ ہائیکورٹ کی عمارتوں پر بھی لگے ہوئے ہیں۔اور ایسی غلط باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف منسوب کی ہیں یا جماعت کے عقائد کی طرف یہ لوگ منسوب کرتے ہیں کہ جس کی انتہا کوئی نہیں اور یہ باتیں منسوب کر کے لوگوں کو بھڑکاتے ہیں۔ایسی باتیں جن کا جماعت کے عقائد سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ان کی انہی مخالفتوں کی وجہ سے جماعت کو تسلی دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔