خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد 12 468 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء ان آگوں میں بار بار ایندھن ڈالا جائے گا۔یہ آگیں بھڑ کانے والے ارد گرد بیٹھے تماشا دیکھتے رہیں گے۔یہ لوگ جنہوں نے ایسے انتظامات اپنے زعم میں کئے ہوں گے کہ گویا خندقیں کھود کر ، ان مومنوں کو محدود کر کے، ہر طرف سے گھیر کر پھر آگیں جلائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فرما دیا کہ بیشک آگ کی تکلیفوں سے تو گزرنا پڑے گا لیکن آخر کار یہ ہر طرف سے گھیر کر مومنوں کو آگ میں جلانے کی کوشش کرنے والے خود ہی ہلاک کر دیئے جائیں گے۔اپنے زعم میں تو یہ آگ کے ارد گرد پہرے لگا کر بھی بیٹھے ہوں گے کہ اس آگ سے کوئی بچ کر باہر نہ نکلے۔اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں پولیس بھی ساتھ کھڑی تماشا دیکھتی رہتی ہے۔وہ بھی نہیں کوشش کرتی کہ بچائے بلکہ حصہ بن رہی ہوتی ہے۔اور پھر یہ سب آگ بھڑ کانے والے نہ صرف باہر کھڑے ہوتے ہیں بلکہ مومنوں کو جلا کر مزا لیتے ہیں۔اِذْهُمْ عَلَيْهَا قُعُودُ۔یہ صرف کوئی پرانا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی بھی ہے جو ہمیں بتا رہی ہے کہ مومنین کے مخالفین اس طرح کی آگیں بھڑ کا ئیں گے اور پھر ان آگوں پر پہرے لگا کر بھی بیٹھیں گے۔یہ ایک اور ثبوت ہے ہمارے سچائی کے راستے پر ہونے کا اور مومن ہونے کا اور ان مخالفین کے ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہونے کا جو مومنین کے خلاف آگیں بھڑکاتے ہیں۔اور پھر نہ صرف یہ کہ گھیرا ڈال کر بیٹھے ہیں کہ اس آگ سے باہر کوئی نہ نکلے بلکہ خوش ہور ہے ہیں کہ ہم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔میں کچھ تفصیلات شہداء کے حوالے سے بیان کروں گا جس میں آپ دیکھیں گے کہ عین اس کے مطابق انہوں نے کمروں کے دروازے بند کر کے پھر آگ لگائی اور کمروں میں جو دس گیارہ بچے ، عورتیں اور لوگ تھے ان کو تنگ کرنے کے لئے ، ان کو بتانے کے لئے کہ اب تم پھنس گئے اب باہر نکلنے کا کوئی رستہ نہیں۔انہیں پھر کھڑکیوں سے شیشوں سے طنزیہ انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے اور خوشی کے نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے۔اس واقعہ کی جو ویڈیو فلمیں ہیں ان میں بھی ان ظالموں کے چہرے سے واضح ہوتا ہے کہ بے حیائی اور بے شرمی کی ان سے انتہا ہو رہی ہے۔بہر حال ان کے عمل، ان کے نعرے، ان کی باتیں یہ ان کی دشمنی کی انتہا ہے۔بلکہ اس واقعہ کے دو دن بعد کی خبر تھی۔اسی علاقے کے قریب ایک دوسرے علاقے کے ایک مولوی نے اس علاقے کے لوگوں کو جمع کر کے یہ وعدہ بھی لیا ہے کہ ان احمدیوں کے ساتھ یہ تو کچھ بھی نہیں کیا گیا تم میرے سے وعدہ کرو کہ ہم اس سے بڑھ کر کریں گے اور تم میرا ساتھ دو گے۔تو یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ جس کے بعد ہم کہیں کہ معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کر کے شاید ان کو کوئی شرم آ گئی ہو۔ایسے بھی بے شرم ہیں اور بہیمانہ سوچ رکھنے والے ظالم ہیں جو ٹوئٹر (Twitter) پر بھی فون پر آج کل پیغام