خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 459 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 459

خطبات مسرور جلد 12 459 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء پس چاہئے کہ اس کے احکامات کی طرف ہم توجہ دیں۔یہ احکامات چاہے اس کی عبادتوں کے بارے میں ہیں یا دوسرے متفرق احکامات ہیں، سب ہماری بھلائی کے لئے ہیں۔پس کسی بھی حکم کو چٹی سمجھنا اللہ تعالیٰ کے فیض سے اپنے آپ کو محروم کرنے والی بات ہے۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہمیں زندگی دینے والا اس دنیا میں بھیجنے والا خدا ہے۔اور جو اس دنیا میں بھیجنے والا ہے اُس نے ہمارے لئے ایک مقصدِ حیات بھی رکھا ہے اور وہ ہے۔فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات :57) یعنی میں نے جن اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔پس جب پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ تو یہ کسی خاص دن اور کسی خاص جمعہ سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہر نماز اور ہر جمعہ فرض ہے۔علاوہ نوافل کے جو انسان اپنی طاقت اور حالات کے مطابق خدا تعالیٰ کا مزید قرب حاصل کرنے کے لئے پڑھتا ہے۔پس ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ بجالانے کی کوشش کرے اور خاص طور پر عبادت جو زندگی کا بنیادی مقصد ہے اُس پر تو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور پھر اس عبادت کا فائدہ ہمیں ہی ہے۔یہ نہیں کہ عبادت بے فائدہ ہے۔اس کا فائدہ بھی ہمیں پہنچ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کی الوہیت تو ہماری عبادت کے بغیر بھی قائم ہے اور قائم رہے گی۔لیکن اگر ہم عبادت کرنے والے ہوں گے تو اس کے احسانات کے ساتھ اس کے انعامات کے بھی ہم وارث بنیں گے۔ان سے فیض پانے والے بھی ہم ہوں گے۔ہمیشہ یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ ہم خالص ایمان والے اس وقت کہلائیں گے جب خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں گے۔ایک خالص مومن کے خدا تعالیٰ سے تعلقات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ایک دوست کے۔اور اس معاملے میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دوستی کا معاملہ دوطرفہ ہوتا ہے۔ایک دوسرے کی باتیں بھی مانی جاتی ہیں اور خلوص اور وفا سے مانی جاتی ہیں۔یہ نہیں کہ ایک دوست صرف اپنی منواتا رہے اور دوسرا مانتا رہے۔پس اس سے قبولیت دعا کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے۔اس مسئلے کی طرف جو قبولیت دعا کا مسئلہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکامات پر ہم عمل کریں گے اور خالص ہو کر عمل کریں گے تو وہ بھی ہماری دعائیں سنے گا۔دوسرے دوستی جو خالص ہو اس میں کوئی دوست اپنے دوسرے دوست کا برانہیں چاہتا۔اور جب دنیا داروں کی جو دوستی ہے اس میں جب دوست دوست کا برانہیں چاہتا تو خدا تعالیٰ جوسب وفاداروں سے زیادہ وفاؤں کی قدر کرنے والا ہے وہ کس طرح اپنے دوست کا برا چاہے گا۔پس خالص ایمان کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور برکت ہی حاصل ہوتی ہے۔دنیاوی دوستی میں اگر ہم