خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد 12 450 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء با قاعدہ طور پر 18 جولائی 1999ء کو آپ مستقل طور پر استاد موازنہ مذاہب مقرر ہوئے اور تادم آخر اسی ذمہ داری کو با احسن نبھاتے رہے۔جامعہ سے پاس ہونے کے بعد خدمت کا عرصہ تقریباً چھپیں سال ہے اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو ان مربیان میں تھے ، علماء میں تھے ، موازنہ مذاہب میں آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اتھارٹی تھے۔بڑا علم تھا۔بڑا گہرا علم تھا۔جامعہ میں تدریس کے علاوہ آپ کو مختلف ں شعبہ جات میں خدمت کی توفیق ملی۔قضا کے ان ابتدائی نمائندگان میں سے تھے جنہیں حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے مقرر فرمایا تھا اور آخر تک یہ رہے۔مجلس افتاء اور ریسرچ سیل کے ممبر بھی تھے۔خدام الاحمدیہ میں مختلف عہدوں پر آپ نے خدمات انجام دیں۔پھر ان کی ایک خوبی گھر والے بتاتے ہیں یہ تھی کہ نظام جماعت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اگر اپنے بچوں میں سے بھی کوئی کسی عہدیدار کے خلاف بات کرتا تو اس کو سمجھاتے اور اگر کوئی شخص کسی جماعتی فیصلے یا شخصیت کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرتا تو اس کو بھی بڑی حکمت سے سمجھا دیتے۔جلسہ سالانہ یو کے میں بھی ان کو شمولیت کی سعادت ملی اور غالباً جلسہ سالانہ 2010ء میں انہوں نے یہاں تقریر بھی کی تھی۔اور اس دفعہ بھی انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ میں نے اپلائی کیا ہوا ہے۔اللہ کرے ویزہ مل جائے پھر ریجیکٹ ہو گیا پھر دوبارہ اپلائی کیا۔خلافت کے ساتھ ان کو غیر معمولی تعلق اور پیار تھا اور حقیقی سلطان نصیر میں شامل تھے۔تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔ہر جگہ مجلس میں جاتے تھے اور ان کو تبلیغی میدان میں بھی بڑا عبور تھا۔لوگوں کو پڑھے لکھوں کو بھی بڑے دلائل سے قائل کر لیا کرتے تھے۔ان کی بیٹی خدیجہ ماہم نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عشق تھا اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑھنے پر بہت زور دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی لغت لکھ رہے تھے اور یہ فکر مند رہتے تھے کہ یہ قیمتی خزانہ لوگوں تک پہنچ جائے۔مشکل الفاظ کی ڈکشنری لکھ رہے تھے تا کہ لوگ حضور علیہ السلام کی کتب سے مستفیض ہو سکیں۔اس کام کا آپ نے ابھی آغاز ہی کیا تھا۔مبشر ایاز صاحب نے بھی لکھا کہ اچھے مقرر تھے۔راہ ہدی میں بھی اور ایم ٹی اے کے متعدد پروگراموں میں شامل ہوتے اور بڑے مدلل جواب دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسے عالم با عمل جماعت کو اللہ تعالیٰ اور بھی عطا فرمائے۔تیسرا جنازہ مکرم صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب کا ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے اور حضرت ام ناصر کے بیٹے تھے۔ان کی وفات گزشتہ سوموار کو ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ