خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد 12 442 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء کے لئے جارہا تھا ایک بالشت قریب تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس بات پر اسے بخش دیا۔(ماخوذ از صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب 54/52 حدیث نمبر :3470) پس یہ ہے اسلام کا خدا جو عذاب کے بجائے بخشنے کو پسند کرتا ہے جس کی رحمت وسیع تر ہے۔پھر ایک اور حدیث ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب عز وجل کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم ! تو مجھ سے دعا نہیں کرتا اور مجھ سے امید بھی وابستہ کرتا ہے۔پس میں اس شرط کے ساتھ کہ تو شرک نہ کرے تجھے تیری خطائیں بخش دوں گا اگر چہ تیری خطائیں زمین کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔میں تجھے اپنی زمین بھر مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔اور اگر تو نے آسمان کی انتہاؤں تک غلطیاں کی ہوں اور پھر تو مجھ سے میری بخشش ط کرے تو میں تجھے وہ بھی بخش دوں گا اور میں ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کروں گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 208 مسندابو ذر الغفاری حدیث 21837 عالم الكتب بيروت 1998ء) یہ ہے اللہ تعالیٰ جو اسلام کا خدا ہے، جو بخشنے والا ہے اور ہم مومنوں پر اللہ تعالیٰ کے کتنے بڑے احسان ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر سال رمضان میں اس کی بخشش کے دروازے مزید کھلتے ہیں۔رمضان میں اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کے بارے میں ایک روایت یوں بیان ہوئی ہے۔نفر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے کہا آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے ماہ رمضان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے کہا: ہاں۔مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان کے روزے رکھنا تم پر فرض کیا ہے اور میں نے تمہارے لئے اس کا قیام جاری کر دیا ہے پس جو کوئی ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے اس میں روزے رکھے وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔نوزائدہ بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔(سنن النسائی کتاب الصیام باب ذکر اختلاف یحیی بن ابی کثیر والنضر بن شیبان فيه حدیث (2210) پس ہمیں اس سے غرض نہیں کہ جاہلوں کو اسلام کا خدا کیسا نظر آتا ہے۔ہمیں تو یہ پتا ہے کہ ہمارا خدا ہمارے ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہمیں پیار کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور ہماری طرف دوڑ کر آنے والا خدا ہے تا کہ اپنے بندوں کے گناہ بخشے۔پھر رمضان کے حوالے سے ایک اور حدیث ہے جس میں رمضان کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے۔