خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 441
خطبات مسرور جلد 12 441 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء اور ظلموں کے باوجود انہیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ہاں یہ بیشک ہے کہ ان ظلموں اور حد سے زیادہ گناہوں میں پڑنے کی وجہ سے اور پھر اس ضد پر قائم رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہیں سزا ملے گی۔مسلسل گناہ اور ظلم کرتے چلے جاؤ اور کسی طرح باز نہ آؤ تو پھر سزا ملے یہ تو قانون قدرت ہے بلکہ دنیا کا بھی قانون ہے۔لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اتنا رحمان ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دوزخ خالی ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی وسیع اور لا انتہاء ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور بخشش کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم لوگ پھر میری رحمت اور بخشش سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو تمہارے لئے گناہوں اور ظلموں کی پھر سزا بھی ہے لیکن یہ میری رحمت ہے اور میری بخشش ہے جو تمہیں بار بار توجہ دلا رہی ہے کہ ان سے بچو۔اس سے پہلے اپنے آپ کو محفوظ کر لوکہ کوئی عذاب تمہیں گھیرے۔حد سے زیادہ فلموں کی وجہ سے تم میری پکڑ میں نہ آ جانا۔پس بچنے کی کوشش کرو۔اب جو اس پر بھی اعتراض کرتے ہیں اس پر سوائے ان کی عقل کو اندھا اور بغض وعناد میں بھرے ہوئے ہونے کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔اپنے ملکوں کے قانون جو بناتے ہیں اس میں تو یہ جرموں کی سزا دینا چاہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑنے والوں اور ظلموں اور زیادتیوں میں بڑھنے والوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کیوں یہ کہتا ہے کہ میں سزا دوں گا ، میں عذاب دوں گا۔اسلام کا خدا کتنا بخشنہار ہے اس کی وضاحت اس روایت سے ہوتی ہے۔حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے۔اب یہ مثالیں اس لئے دی جارہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق بھی بتایا جائے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔فرمایا کہ اس نے نانوے قتل کئے تھے پھر وہ تو بہ کے متعلق پوچھنے کے لئے نکلا۔ایک راہب کے پاس آ کر اس نے پوچھا کہ اب تو بہ ہوسکتی ہے۔اس راہب نے کہا : نہیں اب کوئی رستہ نہیں۔اس نے اس کو بھی قتل کر دیا۔وہ مسلسل اس کے بارے میں پوچھتا رہا کہ کیا تو بہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں تو اسے ایک شخص نے کہا کہ فلاں بستی میں جاؤ۔جب وہ جارہا تھا تو اس کو راستے میں موت آ گئی۔اس نے اپنے سینے کو اس بستی کی طرف کر دیا۔جب مر کے گرا تو اس طرف گرا۔رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آگئے۔اس کے متعلق جھگڑنے لگے۔اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو جس میں وہ جارہا تھا حکم دیا کہ اس کے قریب ہو جا اور جس بستی سے وہ دُور جارہا تھا اسے حکم دیا کہ اس سے دُور ہو جا۔پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ ان دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ کی پیمائش کرو تو وہ اس بستی سے جس کی طرف وہ گناہ بخشوانے