خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 440
خطبات مسرور جلد 12 440 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء پر نظر ہوگی تو وہ غفور الرحیم ہے۔بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ صرف وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے بلکہ فرماتا ہے ورحمتی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ - (الاعراف: 157 ) کہ اور میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔یہاں بات تو مومنوں سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔صرف مومنوں کی بات نہیں ہو رہی۔یہ رحمت تو کافروں کو بھی پہنچتی ہے اور مومنوں پر تو پھر یہ فرض ہو گئی۔وہ تمام گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔یہی اللہ تعالیٰ فرما تا ہے۔وہ مالک ہے۔اس کو معاف کرنے کے لئے کسی پابندی کی یا کسی شرط کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن کیا ایسے رحیم اور پیار کرنے والے خدا کے رحم اور پیار کا تقاضا نہیں کہ ہم اس کے کہنے پر چل کر اس کے حکموں پر عمل کر کے اس سے محبت کو بڑھائیں، اس کے اور قریب ہوں اور اپنے گناہوں اور اپنی کمزوریوں کو ختم کرنے کی حتی القدور کوشش کریں۔یہ ساری باتیں جو میں نے قرآن کریم کے حوالے سے کی ہیں اور اسی طرح جو احادیث ہم تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہنچتی ہیں یہ سب ہمیں یہی بتاتی ہیں کہ کوئی بھی شخص نا قابل اصلاح نہیں ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی شخص کی اصلاح نہ ہو سکے۔ہر ایک کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ہر ایک اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت سے جو ہر ایک کے لئے پھیلی ہوئی ہے اس کی رحمت کو اس سے بڑھ کر زیادہ بھی حاصل کرنے والا بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے دل میں اور پھر عملی طور پر پاک تبدیلیاں لانے کی کوشش کرے۔گزشتہ دنوں ڈنمارک کے ایک مذہبی اخبار میں ایک خاتون نے مضمون لکھا اور قرآن کریم کے بارے میں لکھا کہ اس میں بار بار سزا اور عذاب کا ذکر ہے اور محبت کا لفظ تو کہیں استعمال ہی نہیں ہوا یا ایک دو جگہ استعمال ہوا ہے۔اور یہ کہنا کہ خدا پر ایمان ایک انسان کو اپنی مرضی اور آزادی اور خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ہے یہ کسی طرح بھی کم از کم مسلمانوں کے لئے درست نہیں ہو سکتا۔بعض آیات بغیر سیاق وسباق کے لکھ کر یا غلط طور پر بیان کر کے اور اپنی طرف سے استنباط کر کے اسلام کے خدا کو صرف سزا دینے میں جلد باز اور سخت پکڑ والا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔بہر حال اس کا جواب تو وہاں کی جماعت دے رہی ہے لیکن یہ جو چند حوالے میں نے پیش کئے ہیں وہ جہاں مومنین کو امید افزاء پیغام دیتے ہیں وہاں اس جیسے مضمون نگاروں کو اور اسلام دشمنوں کو جو اسلام کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں اور اسلام اور قرآن سے بغض رکھتے ہیں ان کو جواب بھی دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو مالک ہے، بخشتا ہے۔یہ ایسی صفت ہے جو تمام صفات پر حاوی ہے۔معاف بھی کرتا ہے رحم بھی کرتا ہے۔یہ بھی اس کا رحم ہے کہ انسانوں کی بے انتہاء بداعتدالیوں