خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد 12 437 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء مجھے یوں لگا جیسے ان کے گردنور کا ایک ہالہ ہے جو اب بھی میں تصور کر سکتا ہوں۔امریکہ کی نیشنل عاملہ میں ان کو خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔لوکل صدر بھی رہے سیکرٹری تبلیغ بھی رہے۔زعیم انصار اللہ کی حیثیت سے بھی کام کیا۔امریکہ کے شہر سیاٹل میں ایک پورٹ پر کام کرتے تھے اور آپ کو دو تین ماہ گھر سے دور رہنا پڑتا تھا۔انہی ایام میں جبکہ یہ آپ کی بڑی آمدنی والی ملازمت تھی ، ایک دفعہ جلسہ آ گیا اور آپ جلسہ اٹنڈ (attend) کرنے کے لئے اپنا کام چھوڑ کر آگئے ، ملازمت چھوڑ کر آ گئے۔ہمیشہ جماعتی پروگراموں میں شمولیت کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک جماعتی پروگرام میں شامل ہونے کے لئے جا رہے تھے خدمت کے لئے کسی جگہ اور تیز گاڑی چلا رہے تھے تو پولیس والے نے آپ کو روک لیا۔آپ نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔پولیس نے پوچھا کہ چرچ یعنی مسجد میں جا رہے ہو۔ٹوپی مسلمانوں والی تھی نماز والی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔پولیس افسر بھی کوئی نیک تھا کہنے لگا اچھا جاؤ پھر جتنا تمہیں جرمانہ میں نے کرنا تھا وہ جا کے اپنی مسجد کو ادا کر دینا۔تو انہوں نے مسجد پہنچتے ہی پچاسی ڈالر کی رقم جو جرمانے کی ہوئی تھی وہ مسجد کے چندے میں نہایت ایمانداری سے دے دی۔اسی طرح جب سیاٹل (Seattle) کی مسجد بنی۔تو اس زمانے میں انہوں نے سب سے زیادہ رقم پیش کی۔یہ 1970ء کی بات ہے جس میں کہتے ہیں اس زمانے میں ایک نئی کار آ جاتی تھی اس رقم میں۔ہمیشہ تبلیغ کا شوق تھا اپنی گاڑی میں فولڈنگ ٹیبل اور چند کتب اور فلائر وغیرہ ہمیشہ رکھتے تھے اور جہاں بھی جاتے وہاں سٹال لگایا کرتے اور تبلیغ کیا کرتے تھے، لٹریچر تقسیم کرتے تھے۔سیاٹل کی پبلک لائبریری میں جماعتی کتب اور فلائر انہوں نے رکھوائے۔آخری لمحے تک ان کو جماعت کی ترقی کی فکر رہتی تھی۔بڑی محبت تھی جماعت سے ، خلافت سے۔اور ہمیشہ لوگوں کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ جماعت کے لئے خدمت کرو۔آپ کے لواحقین میں اہلیہ اور چار بچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کے بچوں کو بھی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ یکم اگست 2014ء تا 07 اگست 2014 ، جلد 21 شماره 31 صفحه 05 تا 09)