خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 436
خطبات مسرور جلد 12 436 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء نے بھی لکھا ہے مجھے کہ بڑی بشاشت سے انہوں نے وہ درخواست پھاڑی یہ نہیں کہ کوئی غصے میں۔پھر وہ خود اس کے علاوہ بھی امام صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ ماشاء اللہ بہت محبت اور خلوص سے ٹھوس خدمت کی توفیق انہوں نے پائی۔ہمیشہ جماعتی کاموں اور مفادات کو ذاتی کاموں پر فوقیت دی۔اپنے کام کے بھی ماہر تھے اور بڑی دلی رغبت سے کرتے تھے۔خالد صاحب نے بھی لکھا کہ راویل صاحب کے زمانے میں ان کا مختلف وقتوں میں آنا جانا ہوتا تھا۔تو جب بھی ان کو کہا گیا انہوں نے کہا کوئی بات نہیں ، جب راویل صاحب فارغ ہوں دن ہو رات ہو آ جایا کریں۔مجھے صرف بتا دیا کریں تا کہ میں اس سے پہلے آکے وہاں انتظام کر دیا کروں۔تو ہر وقت خدمت کے لئے تیار رہتے تھے۔میں نے بھی دیکھا ہے بچوں کے ساتھ ملاقات کے لئے کبھی آئے ہیں میرے پاس تو بچوں کو آگے بٹھایا کرتے تھے اور خود پیچھے بیٹھ جاتے تھے۔شاید اس لئے کہ براہ راست بچے میرے سے باتیں کریں اور وہ تعلق جو ان کو خلافت سے ہے ان بچوں میں بھی آئندہ جاری رہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کی یہ خواہش ہمیشہ پوری ہوتی رہے اور ان کے بچوں کا خلافت سے تعلق قائم رہے اور جوان دونوں ماں باپ نے بچوں کی ماشاء اللہ بڑے احسن رنگ میں تربیت کی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے بچوں کو جماعت کا مفید وجود بنائے اور ان کا حامی و ناصر ہو۔ان کی اہلیہ کو بھی صبر اور استقامت دے ان کی والدہ کو بھی صبر دے۔دوسرا جنازہ مکرم الحاج عاصم زکی بشیر الدین صاحب امریکہ کا ہے۔یہ جنازہ غائب ہو گا۔پہلا جنازہ حاضر ہے۔یہ 22 جون 2014ء کو بقضائے الہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ چند سالوں سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے لیکن کبھی اپنے چہرے پر کسی قسم کا ملال ظاہر نہیں ہونے دیا۔بڑی ہمت اور صبر کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کرتے رہے۔ایک عیسائی گھرانے میں 26 مئی 1929ء کو پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی مذہب سے لگاؤ تھا اور جوانی میں خدا کے فضل سے آپ کو ذاتی شوق اور مطالعہ کی وجہ سے احمدیت کا تعارف ہوا اور پھر انہیں بیس سال کی عمر میں آپ نے احمدیت قبول کر لی۔خدا تعالیٰ کی ہستی پر آپ کو کامل یقین تھا نہایت مضبوط ایمان تھا۔بڑے صابر اور شاکر مؤمن یعنی مؤمن ہونے کی حقیقی تصویر تھے۔کئی جماعتی بزرگ شخصیات سے شرف ملاقات ان کو حاصل ہوا۔پہلی دفعہ چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب سے 1940ء میں ان کی ملاقات ہوئی۔1979ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث سے شرف ملاقات نصیب ہوا۔عاصم صاحب کہا کرتے تھے کہ جب میں نے خلیفہ اسیح الثالث سے پہلی ملاقات کی تو