خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد 12 435 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء دین کے کام کرنے کے لئے ہر وقت حاضر ہوتے تھے اور خلافت کی طرف سے جو بھی کوئی کام سپر دہوتا اس کو بڑے جوش اور جذبے اور بشاشت سے سرانجام دینے کی کوشش کرتے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت پر کامل ایمان رکھتے تھے۔لوگوں کو بھی اس کی تسلی دلایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور یہ کام کر دیا دعا کرو۔مہمان نوازی ان کا نمایاں وصف تھا اور جو مہمان گھر میں آتے تھے ان کی بڑی خدمت کیا کرتے تھے بلکہ خود بلاتے تھے۔پھر ان کی ہمشیرہ نے بھی لکھا ہے کہ تصنع بالکل نام کا نہیں تھا اور ایک خوبی ان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنے کی تھی۔کہتی میں کہ نے اکثر دیکھا ہے ان کو بڑا شوق تھا۔ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک کارکن عاصم شہزاد صاحب کہتے ہیں۔گیارہ سال کلیم صاحب کے ساتھ میں نے ایم۔ٹی۔اے میں کام کیا۔اور ان کو ہمیشہ سچا اور مخلص اور خلافت کا فدائی کارکن پایا اور سینئر کارکن کی حیثیت سے کبھی بھی اپنے سے جونیئر کارکن کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں سینئر ہوں اور بڑے پیار اور محبت سے نئے آنے والے کارکنان کو کام سکھانے کی کوشش کرتے تھے۔کہتے ہیں ایک دفعہ انہیں ایم۔ٹی۔اے کمپلیکس میں یہاں بیت الفتوح میں صفائی کے انتظامات کرتے ہوئے دیکھا اور میں نے پوچھا کہ آپ خود یہ صفائی کیوں کرتے ہیں۔دوسروں سے کروالیا کریں تو آپ نے بڑے فخر سے بتایا کہ جب اس کمپلیکس کا افتتاح ہوا ہے تو میرے متعلق کہا کہ خلیفہ وقت نے کارکنوں کو جو دیگر نصائح کی تھیں۔جو نصائح کی تھیں ان میں صفائی کی طرف بھی خاص نصیحت کی تھی اور جب اس وقت میں نصیحتیں کر رہا تھا تو اس وقت میری نظر ان کی طرف تھی اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا حکم ان کے لئے تھا کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔پھر کہتے ہیں ایک دفعہ ایم۔ٹی۔اے کے پرانے کلپ دیکھ رہے تھے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے اقتباسات سلائیڈ میں رکھے گئے تھے اور جن سے یہ اظہار تھا کہ ایم۔ٹی۔اے جو ہے ایک ایسا ادارہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے ایک بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے تو یہ کلپ دکھاتے ہوئے زار و قطار رونے لگے۔کہنے لگے کہ کلیم بھی کس قدر خوش قسمت ہے کہ اس کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے رہا ہے کہ اس میں کام کرے۔پھر کہتے ہیں کہ ان کا چھٹی کا ، رخصت کا حق بنتا تھا۔اس کیلئے ایک دفعہ انہوں نے رخصت کی درخواست دی تو عطاء الحجیب راشد صاحب نے ان کو کہا ابھی کام بہت ہے تو آپ ابھی رخصت نہ لیں تو بڑے انہوں نے فوری طور پر رخصت واپس لے لی اور وہ درخواست بھی پھاڑ دی۔عطاء المجیب صاحب