خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 431

خطبات مسرور جلد 12 431 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء پھر یہ بیان فرماتے ہوئے کہ کلام اللہ کی تلاوت سے محبت الہی پیدا ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں:۔پرستش کی جڑ تلاوت کلام الہی ہے کیونکہ محبوب کا کلام اگر پڑھا جائے یا سنا جائے تو ضرور سچے محب کے لئے محبت انگیز ہوتا ہے اور شورش عشق پیدا کرتا ہے۔“ سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 283) فرمایا کہ دلوں کی سختی کا علاج بھی قرآن کریم میں ہے۔فرماتے ہیں کہ:۔انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے جب اس میں دعا کا مقام آ وے تو دعا کرے اور خود بھی خدا تعالیٰ سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تو اس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جس کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔۔۔دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مؤمن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے بھی شامل حال ہو۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے۔پھر آگے چل کر اور قسم کا چنتا ہے۔پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اٹھاوے۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 266-265) فرمایا کہ قرآن کریم کے بعد اب کسی اور الہامی کتاب کی ضرورت نہیں بالکل کامل اور مکمل کتاب ہے۔فرماتے ہیں:۔قرآن شریف ایسے زمانہ میں آیا تھا کہ جس میں ہر ایک طرح کی ضرورتیں کہ جن کا پیش آنا ممکن ہے پیش آگئی تھیں یعنے تمام امور اخلاقی اور اعتقادی اور قولی اور فعلی گڑ گئے تھے اور ہر ایک قسم کا افراط تفریط اور ہر ایک نوع کا فسادا اپنے انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔اس لئے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی۔پس انہی معنوں سے شریعت فرقانی مختتم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں کیونکہ پہلے زمانوں میں وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے الہامی کتابیں آئیں وہ بھی انتہائی درجہ پر نہیں پہنچے تھے اور قرآن شریف کے وقت میں وہ سب اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے۔بس اب قرآن شریف اور دوسری الہامی کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر ایک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنے فرقان مجید ظہور پذیر ہوتا۔اگر اس وقت کے لحاظ سے مکمل بھی تھیں تب بھی کیونکہ اس وقت کی ضروریات اور تھیں اس لئے تعلیم پھر بھی نامکمل رہنی تھی اور قرآن کریم