خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 430

خطبات مسرور جلد 12 430 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء یہ تمام مواعید کہ جو اپنے وقتوں پر پورے ہو گئے اور ہوتے جاتے ہیں یہ کسی انسان کا کام ہے؟ ( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 266-267 حاشیہ نمبر 11) تلاوت کے آداب کے بارے میں کسی نے سوال کیا تھا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جائے؟ آپ نے فرمایا: " قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہئے۔حدیث شریف میں آیا ہے رُبّ قارٍ یلعنه القرآن۔یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گزر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر و غور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے۔“ ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 200-199) پھر یہ بیان فرماتے ہوئے کہ تلاوت کی غرض کس طرح پوری ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا :۔لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر طوطے کی طرح سے یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خود سمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتا لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لئے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سُر لگا کر پڑھ لیا اور ق اور ع کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا یہ بھی ایک اچھی بات ہے۔“ حدیث میں بھی آیا ہے اچھی تلاوت کرنی چاہئے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 429-428) (سنن ابی داؤد کتاب الصلاة باب استحباب الترتيل في القراءة حديث نمبر 1468) مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر کرے۔یہ یاد رکھو کہ قرآن شریف میں ایک عجیب و غریب اور سچا فلسفہ ہے۔اس میں ایک نظام ہے جس کی قدر نہیں کی جاتی۔جب تک نظام اور ترتیب قرآنی کو مدنظر نہ رکھا جاوے اور اس پر پورا غور نہ کیا جاوے۔قرآن شریف کی تلاوت کے اغراض پورے نہ ہوں گے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 429-428)