خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 429

خطبات مسرور جلد 12 429 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔کوئی کتاب ایسی نہیں جو تمہیں ہدایت دے جب تک قرآن میں سے نہیں گزرو گے۔جب تک اس میں قرآن کریم کی تعلیمات کا ذکر نہیں ہو گا۔فرمایا ”خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔یہ نہایت پیاری نعمت ہے، یہ بڑی دولت ہے، اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی ( بڑے گندے لوتھڑے کی طرح ہوتی۔) ” قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں بیچ ہیں۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26-27) پھر اس کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :۔قرآن مجید ایک ایسی پاک کتاب ہے جو اس وقت دنیا میں آئی تھی جبکہ بڑے بڑے فساد پھیلے ہوئے تھے اور بہت سی اعتقادی اور عملی غلطیاں رائج ہوگئی تھیں اور تقریباً سب کے سب لوگ بد اعمالیوں اور بد عقیدگیوں میں گرفتار تھے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالبَحْر۔یعنی تمام لوگ کیا اہل کتاب اور کیا دوسرے سب کے سب بدعقید گیوں میں مبتلا تھے اور دنیا میں فساد عظیم بر پا تھا۔غرض ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام عقائد باطلہ کی تردید کے لئے قرآن مجید جیسی کامل کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی جس میں کل مذا ہب باطلہ کارڈ موجود ہے اور خاص کر سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر کل عقائد کا ذکر ہے۔“ ( ملفوظات جلد 10 صفحہ (31) پھر آپ فرماتے ہیں کہ:۔" ( قرآن میں ) جس قدر خداوند قادر مطلق نے تمام دنیا کے مقابلہ پر تمام مخالفوں کے مقابلہ پر تمام دشمنوں کے مقابلہ پر تمام منکروں کے مقابلہ پر تمام دولتمندوں کے مقابلہ پر تمام زور آوروں کے مقابلہ پر تمام بادشاہوں کے مقابلہ پر تمام حکیموں کے مقابلہ پر تمام فلاسفروں کے مقابلہ پر تمام اہل مذہب کے مقابلہ پر ایک عاجز ناتوان بے زر بے زور ایک امی نا خوان بے علم بے تربیت کو اپنی خداوندی کے کامل جلال سے کامیابی کے وعدے دیئے ہیں۔کیا کوئی ایمانداروں اور حق کے طالبوں میں سے شک کر سکتا ہے