خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 426
خطبات مسرور جلد 12 426 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء اور ہر حالت کے موافق ہر گز نہیں۔یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے اور تمام قومی کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔“ ( ملفوظات جلد 9 صفحہ (122) حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ پاکستان کے ایک وزیر ماؤزے تنگ کے زمانے میں چائنا (China) کے دورے پر گئے۔انہوں نے ماؤ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اپنی قوم میں یہ انقلاب پیدا کیا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو جاؤ اپنے نبی کا اسوہ دیکھو اور اپنے قرآن کریم کو پڑھو اور اس پر عمل کرو تو تمہیں سب کچھ پل جائے گا۔تو غیروں کو بھی جو عقل مند ہیں چاہے وہ مانیں نہ مانیں لیکن قرآن کریم میں ایک نور نظر آتا ہے۔پھر قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے سے کیا انقلاب آتے ہیں؟ اس بارے میں معجزات کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ :۔دوسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہمارے لئے حکم مشہود و محسوس کا رکھتا ہے بڑا واضح ہے وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں برکت پیروی قرآن شریف واثر صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہور میں آئیں۔جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف با سلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اتباع قرآن شریف کس رنگ میں آگئے اور کیسے اخلاق میں، عقائد میں، چلن میں، گفتار میں ، رفتار میں، کردار میں اور اپنی جمیع عادات میں خبیث حالت سے منتقل ہو کر نہایت طیب اور پاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے ان کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی اور روشنی اور چمک بخش دی تھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک خارق عادت تصرف تھا جو خاص خدائے تعالیٰ کے ہاتھ نے کیا۔“ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 447) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل اور وجوہات پہلے آپ نے بیان کر دیں۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔