خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 425 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 425

خطبات مسرور جلد 12 425 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء قرآن کے لفظ میں غور کی۔تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی۔جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی۔اور دیگر کتا بیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔فرقان کے بھی یہی معنے ہیں۔یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی۔اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا ر ہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں۔اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔بڑے تاسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔“ پھر اصلاح کے ذرائع بیان کرتے ہوئے آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ:۔(ملفوظات جلد 2 صفحہ 122) تبدیلی اور اصلاح کس طرح ہو؟ اس کا جواب وہی ہے کہ نماز سے جو اصل دعا ہے۔“ پہلی بات نماز۔پھر فرمایا " قرآن شریف پر تدبر کرو۔اس میں سب کچھ ہے۔نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں۔( ملفوظات جلد 9 صفحه (122) پس پہلی چیز جو ہے نمازوں کی طرف توجہ ہے اور ان دنوں میں تو خاص طور پر باجماعت نمازوں کی طرف توجہ ہونی چاہئے ، خاص اہتمام ہونا چاہئے اور پھر قرآن کریم کا کیونکہ رمضان سے تعلق ہے اس لئے ان دنوں میں اگر پڑھنے کی عادت ڈال لیں اور سوچنے کی اور سمجھنے کی عادت ڈال لیں ، اپنے اوپر اس تعلیم کو لاگو کرنے کی عادت ڈال لیں تو وہ پھر آئندہ بھی کام آتی ہے۔فرمایا کہ: ”نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں وغیرہ۔بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔اس کی تعلیم اس زمانہ کے حسب حال ہو تو ہولیکن وہ ہمیشہ