خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 421
خطبات مسرور جلد 12 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء شرعی کتاب پر عمل کر کے اپنی روحانی، دینی، اخلاقی ترقی کے سامان کریں بلکہ دنیاوی ترقی کے بھی سامان کریں اور اس آیت میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے رمضان کے مہینے کے ساتھ جوڑ کر قرآن کریم کی برکات کارمضان کے ساتھ تعلق قائم فرمایا ہے اور رمضان کے تعلق کو قرآن کے ساتھ قائم کر کے رمضان کی اہمیت مزید اجاگر کی گئی ہے۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ - کہہ کر بتا یا کہ اس آخری شرعی اور کامل کتاب کا تعلق رمضان سے ہے اور جو شخص چاہتا ہے کہ اپنے ایمان میں ترقی کرے، جو چاہتا ہے کہ اس آخری اور مکمل کتاب اور شریعت کو دنیا میں پھیلائے اور دنیا اس کو جان لے۔جو شخص چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لے جانے کی کوشش کرے جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے اور فاتح قریب کی آواز سنے تو پھر رمضان اور قرآن کا حق ادا کرے۔ان کے آپس کے تعلق کو جانے۔اس مہینے میں یہ فاصلے جو عام دنوں اور مہینوں میں بہت دور لگتے ہیں سمیٹ کر قریب کر دیئے ہیں۔پس ایک مؤمن اس مہینے سے جتنا بھی فیض پاسکتا ہے پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آیت کے اس حصے کے بارہ میں مفسرین نے لکھا ہے کہ رمضان کے روزوں کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم میں خاص طور پر احکام نازل کئے گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا کہ: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ یہی ایک فقرہ ہے جس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 646 - البدر جلد 1 نمبر 12،7 دسمبر 1902 ء صفحہ 52 کالم 2) اور پھر یہ بھی فرمایا کہ اس عظمت کی وجہ سے روزے کا اجر بھی بہت بڑا اور عظیم ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحه (256) لیکن ان کے لئے جو ان روزوں اور قرآن کے آپس کے تعلق کا بھی حق ادا کریں اور اس کا حق یہ ہے کہ روزوں کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھیں۔اس پر غور کریں اس کی تفسیر میں سنیں یا پڑھیں۔کیونکہ جہاں تک میراعلم ہے میں نے جائزہ لیا ہے ہم میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں بڑی تعداد ہے ایسی جو رمضان میں بھی قرآن کریم کا حق ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتے پورا پڑھتے نہیں۔مطلب یہ ہے کہ جو تو جہ سے پڑھنا چاہئے اس طرح نہیں پڑھتے۔اگر پڑھا بھی تو بے دلی سے تھوڑا سا پڑھ لیا۔تو بہر حال اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔