خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 410 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 410

خطبات مسرور جلد 12 410 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء میں شیطان کو جکڑ کر میں نے تمہارے لئے یہ سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ تم آسانی سے تقویٰ اختیار کر سکو۔ان احکامات پر چل سکو ، چلنے کی کوشش کرو۔میرا قرب پانے والے بن سکو، لیکن اب بھی اگر روزے کے ساتھ بظاہر عبادتوں کی طرف توجہ دے رہے ہو لیکن اپنی اناؤں اور جھوٹی عزتوں کے جال میں پھنسے ہوئے ہو تو روزے کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آ کر اگر ہم ان جالوں اور ان خولوں کو توڑ کر باہر نہیں نکلتے اور صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقویٰ کو حاصل کرنے کی طرف ہم توجہ نہیں دیں گے یا نہیں دیتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ دو عملی ہے اور ظاہری تقویٰ کا اعلان اور دل میں ناپاکیاں یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتیں۔فرمایا کہ خوف کا مقام ہے اور یہ خوف کا مقام اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ کسی کے تقویٰ کا فیصلہ کسی انسان نے نہیں کرنا۔یہ فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔اور جب یہ فیصلہ خدا تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے تو پھر سوائے تو بہ، استغفار تسبیح، تحمید اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا ورد اور ڈرتے ڈرتے دن بسر کرنا اور خدا تعالیٰ کے خوف سے راتیں گزارنا۔اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔لیکن ہمارا خدا بڑا پیار کرنے والا خدا ہے۔قربان جائیں ہم اس پر کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں رمضان میں اپنے بندے کے بہت قریب آ گیا ہوں اس لئے فیض اٹھا لو جتنا اٹھا سکتے ہو اور تقویٰ کے حصول کے لئے میرے بتائے ہوئے طریق پر چلنے کی کوشش کرو تا کہ تم اپنی دنیا و عاقبت سنوار نے والے بن سکو۔یہ کیمپ جو ایک مہینہ کا قائم ہوا ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھا لو کہ اس میں خالصہ اللہ تعالیٰ کے لئے کی گئی نیکیاں تمہیں عام دنوں میں کی گئی نیکیوں کی نسبت کئی گنا ثواب کا مستحق بنانے والی ہوں گی۔پس اٹھو اور میرے حکموں کے مطابق اپنی عبادتوں کو بھی سنوارو اور اس عہد کے ساتھ سنوارو کہ یہ سنوار آب ہم نے ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔اٹھو اور اپنے اعمال کو بھی خوبصورت بنا ؤ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق بناؤ اور اس ارادے سے بنانے کی کوشش کرو کہ اب ہم نے ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔اٹھو اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا جو عہد کیا ہے اس کا حقیقی ادراک اس مہینے میں حاصل کرنے کی کا کوشش کرو اور اس سوچ کے ساتھ کرو کہ اب یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھو کہ وَلا تَشْتَرُوا بِايْتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ۔(البقرة:42) کہ میری آیتوں کے بدلے تھوڑی قیمت مت لو اور مجھ سے ہی ڈرو یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری باتیں جو دین ہیں ان کے بدلے میں دنیا کی خواہش نہ کرو۔یادر کھودین کے مقابلے میں دنیا بالکل حقیر چیز ہے۔پس یہ سوچ ہے جو ہم میں سے ہر ایک میں پیدا ہونی چاہئے تبھی ہم رمضان کا حقیقی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ یہی نہیں