خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 409
خطبات مسرور جلد 12 409 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء ہوں۔رمضان کی روح کو سمجھے بغیر صرف ایک دوسرے کو رمضان مبارک کہہ کر پھر رمضان کی روح کو بھول جانے والا ہمارا رمضان نہ ہو بلکہ تقویٰ کا حصول ہمارے سامنے ہر سحری اور ہر افطاری کے وقت ہو۔دن بھر کا ذکر الہی اور رات کے نوافل ہمیں تقویٰ کی راہیں دکھانے والے ہوں۔ہم اپنے اوپر زیادتی کرنے والے کا جواب اسی طرح الٹا کر دینے والے نہ ہو جائیں۔اس کے بجائے ہم اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اپنے اوپر زیادتی کرنے والے کے جواب میں خاموش ہو جائیں۔تقویٰ پر چلتے ہوئے یہ جواب دیں کہ میں روزہ دار ہوں۔ہر زیادتی کے جواب میں اني صائم کے الفاظ ہمارے منہ سے نکلیں۔(صحیح البخارى كتاب الصوم باب فضل الصوم حديث (1894 ہمیں ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ ہماری عزتیں ہماری بڑائی کسی کو نیچا دکھانے یا اسی طرح ترکی بہ ترکی جواب دینے میں نہیں اور اپنے پر کی گئی زیادتیوں کا بدلہ لینے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ہے۔اسی میں ہماری بڑائی ہے۔اسی بات میں ہماری عزت ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس کو عزت دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمُ۔(الحجرات : 14 ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہونے کا یہ معیار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس بارے میں ایک ارشاد ہے جو ایک اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ :۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دوکھڑے نہیں ہو سکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور نا پاک بھی وہیں۔ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے۔اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اس کے نزدیک متقی ہے فرمایا ” پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بد بخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 238-239) پس یہ بڑا خوف دلانے والی تنبیہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ روزے اور یہ رمضان کا مہینہ اس لئے ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انتہائی رحم کا سلوک ہے۔پھر فرمایا کہ ان دنوں