خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد 12 404 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء یہ ایک واقعہ ہے جب میں نے ان کو سنجیدہ اور فکر مند دیکھا ہے۔بہر حال ان کی جو یہ بے چینی تھی، جو سوز تھا یہ خلافت سے محبت کا اظہار تھا۔پھر یہاں سے علاج کے بعد جب گئے ہیں تو تمام عاملہ سے پھر انہوں نے مجھے معافی کا خط لکھوایا کہ ہمارے سے غلطی ہوگئی ہے اور جلسہ انشاء اللہ ہو گا۔اور پھر جلسہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا اور بڑا کامیاب ہوا اور پھر یہ بھی لکھا کہ اس سال کا جلسہ گزشتہ سالوں کے جلسوں سے زیادہ کامیاب ہوا ہے اور سہولیات بھی بہتر رہی ہیں۔پس یہ یقینا خلافت کی اطاعت کی وجہ سے تھا اور جس طرح میرے ہر فیصلے پر ان کا یہی کہنا تھا کہ میں نے تو ماننا ہے اور نبض کی طرح ساتھ چلنا ہے۔فہیم بھٹی صاحب کہتے ہیں کہ بڑے بے نفس تھے۔ایک دن میں گیا ہوں تو حالانکہ بیمار تھے پھر بھی سنک میں برتن دھورہے تھے۔میں نے کہا میں دھو دیتا ہوں تو انہوں نے کہا نہیں کوئی ضرورت نہیں۔خلیفہ اسیح الثالث کے متعلق ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہاب صاحب چھٹی پر پاکستان گئے تو فرما یا تمہاری کوئی چھٹی نہیں اور دیہاتوں میں جا کر کام کرو۔وہاب صاحب کہتے ہیں کہ دیہاتوں میں جا کر مجھے جو تجربہ ہوا اس سے مجھے بڑا فائدہ ہوا اور پھر مجھے خلیفہ وقت کے فیصلوں کی حکمت نظر آئی۔ساری ساری رات جو لوگ کام کرنے والے تھے ان کو خود چائے وغیرہ پوچھتے ، ان کا خیال رکھتے۔سلیم الحق صاحب کہتے ہیں کہ جب یہ یہاں تھے تو گزشتہ سال ایک دن سپریم کورٹ گھانا کا کوئی فیصلہ آنا تھا۔تو فجر کے بعد ملاقات ہوئی۔کہنے لگے میراٹی وی خراب ہو گیا ہے اور چل نہیں رہا۔ٹھیک کر دیں کیونکہ میں نے خلیفہ وقت کو اس فیصلے کے بارے میں رپورٹ دینی ہے۔تو کہتے ہیں مجھے تو پتا نہیں لیکن میرے بچے ٹھیک کر دیں گے۔خیر بچوں نے ٹھیک کر دیا۔اس پر بڑے خوش ہوئے پھر ان کو چاکلیٹ بھی دیئے۔فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کے یہ ننھے مجاہد ہیں اور یہ بچے جو ہیں یہ جماعت کے روشن مستقبل اور ترقیات کا ذریعہ بنیں گے اور انشاء اللہ غالب بھی آئیں گے۔اس طرح بچوں کو encourage کیا کرتے تھے۔ابراہیم اخلف صاحب بھی ان کو ملے ہیں۔کہتے ہیں کہ کوئی ملاوٹ نہیں تھی۔خلافت سے محبت اور عقیدت بہت زیادہ تھی۔اسی طرح جو کوئی بھی مرکزی نمائندہ جاتا تھا اس کی بڑی عزت و احترام کیا کرتے تھے۔میں نے اپنا بھی ذکر کیا کہ میں وہاں رہا ہوں۔کچھ دن شروع میں ان کے گھر بھی رہا ہوں۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا، پاکستانی کھانوں کا وغیرہ۔اور صرف میر انہیں بلکہ ہر پاکستانی جو جا تا تھا اس کا خیال رکھتے تھے۔