خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد 12 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے کہ جس سے آپ کو ایک ٹرین کے سفر کے دوران واسطہ پڑا۔وہ ایک معزز خاندان کا شخص تھا۔شاید حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جانتا بھی تھا اور پونچھ کے کسی وزیر کا بیٹا بھی تھا۔وہ ٹرین کے اس سفر میں نشے میں ایسی باتیں کہ رہا تھا جو عقل و ہوش قائم ہونے کی صورت میں کبھی انسان کہ نہیں سکتا۔تو حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ یہ شراب کا جونشہ ہے انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور نشے میں اُسے بالکل پاگل بنادیتا ہے۔مگر دوسری طرف ہم قوت ارادی کا ایسا انقلاب دیکھتے ہیں کہ بعض غیر مسلم اس پر مشکل سے یقین کرتے ہیں۔یہ قوت ارادی ایمان کی قوت ارادی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کی۔اس کا نظارہ ہمیں اس روایت سے ملتا ہے کہ چند صحابہ ایک مکان میں بیٹھے ہوئے تھے۔دروازے بند تھے اور یہ سب شراب پی رہے تھے اور اُس وقت ابھی شراب نہ پینے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اور شراب پینے میں کوئی ہچکچاہٹ بھی نہیں تھی۔جس کا جتنا دل چاہے، پیتا تھا، نشے میں بھی آجاتے تھے۔شراب کا ایک مٹکا اس مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے خالی کر دیا اور جو مٹکا ہے وہ بھی کئی گیلن کا ہوتا ہے۔اور دوسرا شروع کرنے لگے تھے کہ اتنے میں گلی سے آواز آئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ آج سے مسلمانوں پر شراب حرام کی جاتی ہے۔اس آواز کا ان لوگوں تک پہنچنا تھا کہ اُن میں سے ایک جو شراب کے نشے میں مزا لے رہا تھا، اُس میں مدہوش تھا، دوسرے کو کہنے لگا کہ اُٹھو اور دروازہ کھول کر اس اعلان کی حقیقت معلوم کرو۔ان شراب پینے والوں میں سے ایک شخص اُٹھ کر اعلان کی حقیقت معلوم کرنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک دوسرا شخص جو شراب کے نشے میں مخمور تھا اُس نے سوٹا پکڑا اور شراب کے مٹکے پر مار کر اُسے توڑ دیا۔دوسروں نے جب اُسے یہ کہا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ پہلے پوچھ تو لینے دیتے کہ حکم کا کیا مفہوم ہے اور کن لوگوں کے لئے ہے؟ تو اُس نے کہا پہلے مٹکے توڑو، پھر پوچھو کہ اس حکم کی کیا حقیقت ہے؟ کہنے لگا کہ جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی آواز سن لی تو پہلے تو حکم کی تعمیل ہوگی۔پھر میں دیکھوں گا کہ اس حکم کی قیود کیا ہیں؟ اُس کی limitations کیا ہیں؟ اور کن حالات میں منع ہے۔پس یہ وہ عظیم الشان فرق ہے جو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور دوسروں میں نظر آتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 445-446 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) پہلے بیان ہو چکا ہے کہ شرابیوں کی کیا حالت ہوتی ہے؟ کسی شرابی سے شراب پیتے ہوئے گلاس